بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 134 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 134

134 تارے بہت چمک گئے ظلمت مگر نہیں گئی حیواں سے آدمی کیا پھر باخدا بنا دیا پر تو ترا ہے جس سے کہ مردوں میں جان پڑ گئی تھی ورطہ فنا میں جب عورت کی کشتی حیات احسان حسن دیکھ کر حیراں میں تم یہ جن و انس شرق سے لے کے تا بہ غرب اسلام ضوفگن ہے آج ہوتے جو تم نہ جلوہ گر بنتے نہ آسماں زمیں میری خدا سے ہے دعا حاصل ہو تیری اقتداء بھیجیں درود اور سلام جتنے ہیں قارئیں تمام آئے جو تم تو دن چڑھا شمس الضحی تمہیں تو ہو ظل خدا تمہیں تو ہو خالق نما تمہیں تو ہو مٹی کو جس نے زرکیا وہ کیمیا تمہیں تو ہو کشتی لگائی جس نے پار وہ ناخدا تمہیں تو ہو دشمن ہیں جسکے مدح خواں وہ باصفا تمہیں تو ہو یعنی جہاں میں مصطفی فرمانروا تمہیں تو ہو جان جہان موجب ارض و سما تمہیں تو ہو ہم سب یہاں ہیں راہ رو اور رہنما تمہیں تو ہو اخلاص تم میں ہے تو پھر اہلِ وفاتمہیں تو ہو