بدرگاہ ذیشانؐ — Page 132
132- جس نے بیج اُلفت کا بویا جسنے دلوں میں پیار سمویا جو ہے پیار کا تانا بانا الفت کے گہوارے کا حق کے پیارے احمد مرسل کی میں کیا تعریف کروں وہ جو ہے محبوب خدا کا پیارا پالن ہارے کا ایسے لفظ کہاں سے لاؤں میری قلم میں تاب کہاں وصف بیاں کر پاؤں اُسکے یار ہے جو بے یاروں کا وہ جس نے خود چل کر سیدھی راہ ہمیں دکھلا دی ہے جس کے نور کی کرنوں سے دُکھ دور ہوا اندھیاروں کا جس کے کارن اُس دنیا میں لاکھوں گھر آباد ہوئے راہ تکے ہے آج زمانہ اُس کے ایک اشارے کا بس اچھی خاموش! کہ اب تو حدادب کو پار نہ کر اس کا تصور کیا کیجیے جو نور ہے چاند ستاروں کا محمد مصطفیٰ کے نام پر جاں بھی فدا کر دوں! یہ مجھ پر قرض ہے اس قرض کو کیسے ادا کر دوں سبق جس نے دیا ہم کو محبت کا مروت کا اسی جانِ جہاں پر اپنے جان و دل فدا کر دوں