بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 128 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 128

128 دعوت حق نہ رکی چرچا دیں عام کیا تیرے اس کام سے جی کو نہ پھرایا ہم نے ایک مولیٰ ہے ہمارا نہ کوئی اُس کا شریک بر ملا سب سے کہا، جنگ کو سنایا ہم نے قید و بند ، ظلمت وسفا کی سہی جاں سے گئے شاخ پیوند کو ہر آن بچایا ہم نے کوئی جابر بھی جدا کر نہ سکا تجھ سے ہمیں عہد بیعت کو بہر طور نبھایا ہم نے نقش ہستی تیری الفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تیری رہ میں اُڑایا ہم نے " امتہ الباری ناصر محمد پہ آل محمد پہ برسے سدا میرے مولا کی رحمت کی بارش جو بری تھی حضرت ابوالانبیاء پہ برستی رہے ویسی برکت کی بارش اے ایمان والو سد ادل سے بھیجو درود و سلام افضل الانبیاء پر خدا اور فرشے بھی کرتے ہیں ہر دم درود و سلام و محبت کی بارش آپ سے بڑھ کے کوئی حسیں تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا کبھی کوئی نوع بشر میں آپ کا نام نامی لبوں پر جو آیا ہوئی میری آنکھوں سے مدحت کی بارش متانت، فراست، شرافت مودت ،سکنیت ، وجاہت ، مروت سراپا