بدرگاہ ذیشانؐ — Page 116
116 میجر (ریٹائرڈ) منظور احمد ساہیوال مُجرم و عصیاں کے جہاں منظر رکھے مغفرت کے بھی وہاں سو در کھلے روبرو اعمال کے دفتر کھلے رُو بروواں اُن کے بھی جو ہر کھلے آپ ہیں جب شافع اُمت تو پھر یہ رجسٹر کیوں سر محشر کھلے جانتے ہیں وہ میری مجبوریاں ایک تھا دِل لاکھ فتنہ گر کھلے راز کی ہے بات لیکن اے ندیم نیم شب کے بعد وہ اکثر کھلے "مت الجھنیو کوئی بھی ان سے" کہ یہ ہیں ولی پوشیدہ اور کافر کھلے اب سوار اشہب دوران بیا ین تمہارے قفل دل کیونکر کھلے آپ کے دم سے کھلا رحمت کا در کاش یہ دروازہ میرے گھر کھلے الفضل ۲۷ اگست ۱۹۸۹ء)