بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 115 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 115

115 ہر طرف پھیلا دیئے انوار علم و آگہی کس صف وصدق سے معمور تھی وہ ذات پاک جس نے ہر انسان کو بخشی فضیلت کی ردا ماؤں کے قدمونکی جنت سے بڑھا کر عظمتیں ظلم و استبداد کی بنیاد ہل کر رہ گئی قیصر و کسری کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی کوئی دکھلائے تو اُس حسن ترحم کی نظیر اور ہر وادی کو رشک طور سینا کر دیا کذب کے رسیوں کو بھی صدق سرا پا کر دیا امتیاز اسود و احمر کو عنقا کر دیا صنف نازک کا جہاں میں بول بالا کر دیا جبر و استحصال کا یکسر صفایا کر دیا ہر شکوہ خسروی کا رنگ پھیکا کر دیا کہہ کے "لانتثریب "سردشمن کا نیچا کر دیا وہ میرا پیارا محمد، وہ مبشر، وہ جمیل جس کے حسن خلق نے جگ میں اجالا کر دیا