بدرگاہ ذیشانؐ — Page 114
114 چوہدی احمد مختار دل نے جب صلِ علیٰ کا ورد اونچا کر دیا سوچئے تو کس کی آمد کا ہے ہر سوغلغلہ احسنِ تقویم انسانی کا ہے یہ ارتقاء جس کی بعثت باعث تکمیل بیت اللہ ہوئی جس نے حیوانوں کو بخشا آدمیت کالباس جو جہالت کی خجالت میں تھے صد ہا سال سے کفر وشرک و بدعت و ظلم وتعدی میکشی کفروشرک ہر طرف چھائی ہوئی تھیں جہل کی تاریکیاں جس نے فرزانوں کو بھی سکھلائے آداب جنوں روح یوں تڑپی کہ اک ہنگامہ برپا کر دیا کس لئے ارض و سما کو حق نے پیدا کر دیا ختم ہیں جس پر کمالات اُسکو پیدا کر دیا جس نے عرفان براہیمی کا چرچا کر دیا جس نے ہر ذرے کو مہتاب وثر یا کر دیا۔خاک سے اُن کو اٹھایا چرخ پیما کر دیا مشغلے سارے چھڑا کر حق کا شیدا کر دیا مہر عالم تاب نے ہر سو اجالا کر دیا حق کے جو یاؤں کو جس نے حق شناسا کر دیا