بدرگاہ ذیشانؐ — Page 112
112 تیرے اسلام کی خاطر ہیں کہاں تک پہنچے تیرے چاکر تیرے خدام رسولِ عربی یورپ و جر من و امریکہ و افریقه نیز ٹارگٹ اپنا سری نام رسولِ عربی منکرِ فیضِ نبی ہم ہیں بقول اغیار ہم سے ہے خاص یہ الزام رسولِ عربی عشق کا تیرے ملا ہم کو یہ بدلہ کیا خوب ہم ہیں اور گردشِ ایام رسولِ عربی اک نظر مہر و تلطف کی ادھر بھی آقا عشق کا ہم کو بھی اک جام رسول عربی نگہ لطف کہ گو بیچ ہیں۔پر پھر بھی ہیں ہم ترے بندہ بے دام۔رسول عربی تیری مدحت کا شرف اور یہ محمود حزیں اُس پہ یہ بارش اکرام رسولِ عربی ڈاکٹر محمودالحسن ایمن آبادی (الفرقان ۱۹۷۷ء) شمع ہدی ہے نور کا پیکر میرا رسول شمس الہی سے بدر منور جزا رسول ہے میرا ہر خاص و عام اُسکی دعاؤں سے فیضیاب سب کیلئے ہے رحمت داور میرا رسول غم ہائے روزگار کے کانٹے ہزارہا باده کشان عشق و محبت کے واسطے گلزار جاں میں اک گل تر میرا رسول اب ہے تو ایک ساقی کوثر میرا رسول آئے ہیں بے شمار پیمبر جہان میں بے شک وہی ہے باعث تخلیق کائنات اب ہے جہاں کا ایک پیمبر میرا رسول ہر برتری کا منبع ومصدر میرا رسول ہر اک نبی کو جس کی غلامی پہ ناز ہے قدموں پہ جسکے قیصر و کسری بھی جھک گئے