بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 35 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 35

السلام! اے ہادی راہِ ہدیٰ جانِ جہاں والصلوۃ اے خیر مطلق اے شہ کون و مکاں 35 تیرے ملنے سے ملا ہم کو وہ "مقصودِ حیات" تجھ کو پا کر ہم نے پایا " کام دل " آرام جاں آپ چل کر تو نے دکھلادی رو وصل حبیب تو نے بتلایا کہ یوں ملتا ہے یارِ بے نشاں ہے کشادہ آپ کا باب سخاسب کے لئے زیر احساں کیوں نہ ہوں پھر مردوزن پیر و جواں تشنہ روحیں ہوگئیں سیراب تیرے فیض سے و عرفانِ خداوندی کے بحر بیکراں تو وہ آئینہ ہے جس نے منہ دکھایا یار کا جسم خاکی کو عطا کی روح اے جانِ جہاں ہے یہی ماہ میں جس پر زوال آتا نہیں ہے یہی گلشن جسے چھوٹی نہیں بادخزاں ایک ہی زینہ ہے اب بام مرادِ وصل کا بے ملے تیرے ملے، ممکن نہیں وہ دل ستاں تا قیامت جو رہے تازہ تری تعلیم ہے تو ہے روحانی مریضوں کا طبیب جاوداں