بدرگاہ ذیشانؐ — Page 28
28 ہیں جان و جسم ہو تری گلیوں پہ ہیں نثار اولا د ہے ، سو وہ تیرے قدموں پہ ہے فِدا تو وہ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا اے میرے والے مصطفیٰ اے سید انورٹی اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا رپ جلیل کی تیرا دل جلوہ گاہ ہے سینہ تیرا جمال الہی کا مستقر قبلہ بھی تو ہے قبلہ نما بھی تیرا وجود شانِ خدا ہے تیری اداؤں میں جلوہ گر نورو بشر کا فرق مٹاتی ہے تیری ذات " بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر " تیرے حضور نہ ہے میرا زانوئے ادب میں جانتا نہیں ہوں کوئی پیشوا دگر تیرے وجود کی ہوں میں وہ شایخ با شمر جس پر ہر آن رکھتا ہے رب الوریٰ نظر ہر لحظہ میرے در رے در پئے آزار ہیں وہ لوگ جو تجھ سے میرے قُرب کی رکھتے نہیں خبر مُجھ سے عناد و بغض و عداوت ہے اُن کا دیں اُن سے مجھے کلام نہیں لیکن اس قدر آے وہ کہ مجھ سے رکھتا ہے پر خاش کا خیال " اے آں کہ سُوئے مَن بِدَ وِيْدِی بَصَدَ تَبَر از باغباں پرس که من شاخ مُجرم بعد از خدا بعشق محمد مُخَمَّرَم گرگفر این بود بخدا سخت کافرم" آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے بر سے ہے شرق و غرب پر یکساں تیر اکرم تو مشرقی نہ مغربی اے نورشش جہات تیرا وطن عرب ہے نہ تیرا وطن عجم تو نے مجھے خرید لیا اک نگہ کے ساتھ اب تو ہی تو ہے تیرے سوا میں ہوں کالعدم