بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 52 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 52

87 86 لگے ہوئے ہیں اسی دنیا کے پیچھے وہ بھی خراب ہورہے ہیں۔توجہ اور دم کشی اور منتر جنتر اور دیگر ایسے امور کو اپنی عبادت میں شامل کرتے ہیں جن کا عبادت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف دنیا پرستی کی باتیں ہیں۔اور ایک ہندو کافر اور ایک مشرک عیسائی بھی ان ریاضتوں اور ان کی مشق میں ان کے ساتھ شامل ہو سکتا بلکہ ان سے بڑھ سکتا ہے۔اصلی فقیر تو وہ ہے جو دنیا کی اغراض فاسدہ سے بالکل الگ ہو جائے اور اپنے واسطے ایک تلخ زندگی قبول کرے تب اس کو حالت عرفان حاصل ہوتی ہے اور وہ ایک قوت ایمانی کو پاتا ہے۔آجکل کے پیر زادے اور سجادہ نشین نماز جو اعلیٰ عبادت ہے اس کی تو پرواہ نہیں کرتے یا ایسی جلدی جلدی ادا کرتے ہیں جیسے کہ کوئی بیگار کاٹنی ہوتی ہے اور اپنے اوقات کو خود تراشیدہ عبادتوں میں لگاتے ہیں جو خدا اور رسول نے نہیں فرمائیں ایک ذکر اڑہ بنایا ہوا ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔بعض آدمی ایسی مشقوں سے دیوانے ہو جاتے ہیں ان کو جاہل لوگ ولی سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ہمارے فقراء نے بہت سی بدعتیں اپنے اندر داخل کر لی ہیں۔بعض نے ہندوؤں کے منتر بھی یاد کئے ہوئے ہیں اور ان کو بھی مقدس خیال کیا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 246،245) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :۔آج کل کے پیراکثر فاحشہ عورتوں کو مرید بناتے ہیں بعض ہندوؤں کے پیر ہوتے ہیں ایسے لوگ اپنی بد کردار یوں پر اور اپنے کفر پر برابر قائم رہتے ہیں صرف پیر کو چندہ دے کر وہ مرید بن سکتے ہیں۔اعمال خواہ کیسے ہی ہوں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا۔اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو آنحضرت علہ ابوجہل کو بھی مرید بنا سکتے تھے وہ اپنے بتوں کی پرستش بھی کرتا رہتا اور اس قدرلڑائی جھگڑے کی ضرورت نہ پڑتی مگر یہ باتیں بالکل گناہ ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ (247) تنخواہ دار امام الصلوة ایک رسم مسلمانوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے کہ مساجد میں معاوضہ پر امام رکھتے ہیں۔غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم خواہ مسجد میں آئیں یا نہ آئیں مسجد آبا در ہے۔امام صاحب آ کر مسجد کھولے اور چراغ جلائے یا کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو کان میں اذان دیں یا مر جائے تو جنازہ پڑھا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کے بارہ میں سوال ہوا۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا۔خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کے لئے نماز پڑھتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔نماز تو خدا کے لئے ہے۔ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزد یک خواہ وہ کوئی ہو احمدی یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی۔امام اتنی ہونا چاہئے۔بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں یہ درست نہیں۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو یہ جائز ہے۔“ غیر اللہ کو پکارنا ایک قسم کا شرک ہے قرآن مجید میں آتا ہے: ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 446) وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَالَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ (يونس :107) اور اللہ کے سوا اسے نہ پکار جو نہ تجھے فائدہ دیتا ہے اور نہ نقصان پہنچاتا ہے اور اگر تو نے ایسا کیا تو یقینا تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔