بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 51 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 51

85 84 ترجمہ : حضرت ابو مرثد غنوی کا بیان ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قبروں پر مت بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو۔قبر پر بیٹھنا دو طرح پر ہے ایک یہ قبر کے اوپر بیٹھے اور دوسرا یہ کہ قبر کے بھروسہ پر قبر کا خادم یا مجاور بن کر بیٹھے۔جیسے آجکل خانقاہوں پر مجاور لوگ کمائی کے لئے بیٹھتے ہیں دونوں طرح بیٹھنا درست نہیں۔قبروں کو پکا بنانا بلا ضرورت محض نمود اور کھاوے کے لئے کی قبریں اور دربار بنانا درست نہیں۔عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبَرُ وَ اَنْ يُعْقَدَ عَلَيْهِ وَ أَن يُبْنَى عَلَيْهِ (مسلم کتاب الجنائز بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَحْصِيصِ الْقَبَرِ وَالْبَنَاءِ عَلَيْهِ ) ترجمہ : حضرت جابر کا بیان ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو چونہ کیچ کر کے پکا بنانے اور ان پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا اور عمارتیں بنانے سے بھی منع فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قبر یکی کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:۔اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش ونگار اور گنبد بنائے جائیں تو یہ حرام ہے۔عمل نیت پر موقوف ہے۔ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں پکی بنانا درست ہے مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا ہے۔بعض جگہ قبر میں سے میت کو کتے اور بجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔مُردے کے لئے بھی ایک عزت ہوتی ہے۔اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں تو اس حد تک کہ نمود اورشان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے واسطے قبر کا پکا کرنا جائز ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 505 - فتاوی حضرت مسیح موعود صفحہ 92 حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں :۔یادگار کے خیال سے قبر بنانے کا بھی میں قائل نہیں۔یہی خیال ہے جس سے آگے شرک پیدا ہوتا ہے۔حضرت رسول کریم علیہ کے مزار پر جو قبہ بنایا گیا ہے وہ بھی دشمنوں سے قبر کومحفوظ کرنے کے لئے ہے نہ مزار کی عزت وشان کے لئے۔“ خلاصہ مکالمہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی الفضل مارچ 1927 ء) قبروں پر چراغ جلانا عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ (جامع ترمذی ابواب الصلوة باب ماجاء في كراهية ان يتخذ على القبر مسجدا) ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت رسول کریم علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی اور ان پر جو قبروں پر مسجد میں بناتے ہیں اور ان پر جو قبروں پر چراغ جلاتے ہیں۔سجدہ تعظیم نا جائز ہے ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آیا اس نے سر نیچے جھکا کر آپ کے پاؤں پر رکھنا چاہا تو حضرت نے ہاتھ کے ساتھ اس کے سر کو ہٹایا اور فرمایا:۔یہ طریق جائز نہیں السلام علیکم کہنا اور مصافحہ کرنا چاہیئے“ پیر پیرستی موجودہ زمانہ کے پیروں کے متعلق فرمایا :۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ (211) میں تعجب کرتا ہوں کہ آج کل بہت لوگ فقیر بنتے ہیں مگر سوائے نفس پرستی کے اور کوئی غرض اپنے اندر نہیں رکھتے۔اصل دین سے بالکل الگ ہیں جس دنیا کے پیچھے عوام