بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 37 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 37

58 57 گیتوں کے لئے ساؤنڈ سسٹم استعمال نہ ہو مہندی کی رسمیں گھر کی چار دیواری میں سہیلیوں کی حد تک کرنے کی جو اجازت میں نے دی ہے اس میں ہر جگہ یہ مد نظر رہے کہ آواز میں اتنی زیادہ اونچی نہ ہوں کہ گھر سے باہر نکلیں۔مجھے پتہ چلا ہے کہ آج کل ڈیک بھی اس کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔شادی بیاہ کے گیتوں وغیرہ کے لئے کوئی ساؤنڈ سسٹم استعمال نہیں ہونا چاہیے۔گھر سے آواز باہر نہیں نکلنی چاہیے۔اسی طرح روشنیوں کا بھی بلا وجہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔“ با جا اور آتش بازی (خط بتاریخ 22 جنوری 2010ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح پر باجا بجانے اور آتش بازی چلانے کے متعلق پر فرمایا۔”ہمارے دین میں دین کی بناء کیسر پر ہے عمر پر نہیں اور پھر إِنَّمَا الَا عُمَالُ بِالنِّيَاتِ ضروری چیز ہے باجوں کا وجود آنحضرت علیہ کے زمانہ میں نہ تھا اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری شئے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔اس لئے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔رنڈی کا تماشا یا آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے یہ جائز نہیں۔باجے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے با جابجتا جاوے یا نکاح کے بعد ؟ فرمایا۔ایسے سوالات اور جز و در جز و نکالنا بے فائدہ ہے۔اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان و شوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی با جابجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں۔اسلامی جنگوں میں بھی تو با جا بجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔“ شادی بیاہ پر فضول خرچی بد رسم ہے ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 227) بیاہ شادی کی بد رسوم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ہماری قوم میں ایک یہ بھی بدرسم ہے کہ شادیوں میں صد ہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے سو یا د رکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھا جی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتش بازی چلانا اور رنڈی بھڑ وؤں ڈوم ڈھاریوں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے۔سواس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے اتنا ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔“ بھاجی یا مٹھائی وغیر تقسیم کرنا ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 49) بھاجی اگر شیخی اور بڑائی کے اظہار کے لئے نہ ہو تو منع نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔شادیوں میں جو بھاجی دی جاتی ہے اگر اس کی غرض صرف یہی ہے کہ تا دوسروں پر اپنی شیخی اور بڑائی کا اظہار کیا جاوے تو یہ ریا کاری اور تکبر کے لئے ہوگی۔اس لئے حرام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص محض اس نیت سے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ (انی:11 ) کا عملی اظہار کرے اور مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ پر عمل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے