بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 8 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 8

2 1 بدعت اور بد رسم بدعت کا لغوی مفہوم بدعت کا لفظ بدع سے مشتق ہے اس کے لغوی معنی ہیں کسی سابقہ مثال کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا اور بنانا“ حافظ ابن حجر عسقلانی (773۔852ھ ) بدعت کا لغوی مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔الْبِدْعَةُ أَصْلُهَا مَا أَحْدَثَ عَلَى غَيْرِ مَثَالِ سَابِقِ یعنی بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔“ (عسقلانی فتح الباری جلد 4 صفحہ 353 ) صاحب مفردات امام راغب اصفہانی نے اس لفظ کا مفہوم یہ لکھا ہے۔بَدَعَ : - اَلْإِبْدَاعُ إِنْشَاءُ صَنْعَةٍ بِلَا اِحْتِذَاءٍ وَاقْتِدَاءٍ یعنی کسی کی تقلید اور اقتداء کے بغیر کسی چیز کو ایجاد کرنا۔نیز فرماتے ہیں۔وَالْبِدْعَةُ فِي الْمَذْهَبِ إِبْرَادُ قَوْلٍ لَمْ يَسْتَنَّ قَائِلُهَا وَ فَاعِلُهَا فِيهِ بِصَاحِبِ الشَّرِيعَةِ وَاَمَا ثِلِهَا الْمُتَقَدِّمَةِ وَأصُولِهَا الْمُتَقَنَةِ وَرُوِيَ كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ ترجمہ : بدعت مذہب میں ایسی نئی بات ایجاد کرنا جس کا قائل یا فاعل صاحب شریعت کی اقتداء نہ کرے اور نہ ہی سلف صالحین اور اصول شریعت سے اس کا ثبوت ملتا ہو۔ایک روایت میں ہے كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ کہ بری رسم بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام آگ ہے۔عربی کی مشہور لغت المنجد میں محدثات کے معنی یہ لکھے ہیں ”المحدث ہر وہ نئی شئے جس کا ثبوت نہ کتاب اللہ سے نہ سنت رسول اور نہ اجماع امت سے مل سکے۔بدعت کیا ہے؟ بدعت کا عام مفہوم یہ ہے کہ نیکی کے نام پر دین میں ایسے امور داخل کر لینا جن کی اصل شریعت میں نہ ہو۔مندرجہ ذیل حدیث سے بدعت کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔صحابہ نے ایک مرتبہ قسم کھائی کہ وہ کبھی شادی نہیں کریں گے ، ساری رات قیام کریں گے، روزانہ روزہ رکھا کریں گے۔اس پر آنحضور علی نے فرمایا: مجھے دیکھو میں نے شادیاں بھی کی ہیں، میں رات کو قیام بھی کرتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، روزہ بھی رکھتا۔ہوں اور کبھی روزہ نہیں رکھتا۔پھر فرمایا: مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِى یعنی جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب النکاح، باب الترغيب في النكاح) صحابی کا ارادہ نیک تھا لیکن طریق درست نہ تھا۔نیکیوں کے اسلوب بھی ہم نے آنحضور سے ہی سیکھنے ہیں۔آپ کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر ہی ہم يُحْبِبْكُمُ اللهُ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو پاسکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔بدعت وہ ہے جو اپنی حقیقت میں سنت نبویہ کے معارض اور نقیض مواقع ہو اور آثار نبویہ میں اس کام کے کرنے کے بارے میں زجر اور تہدید پائی جائے۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 611) ے معارض مخالف ۲ نقیض: الٹ، برعکس سے آثار نبویہ: احادیث کے زجر و تهدید: تنبیه ، دھمکی