ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 11
11 اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔حضرت مسیح علیہ السلام سیر کرتے کرتے نصیبین تک پہنچ گئے تھے۔اور نصیبین موصل اور شام کے درمیان ایک شہر ہے جس کو انگریزی نقشوں میں نسی بس کے نام سے لکھا ہے جب ہم ملک شام سے فارس کی طرف سفر کریں تو ہماری راہ میں نصیبین آئے گا اور وہ بیت المقدس سے قریباً ساڑھے چار سو کوس ہے اور پھر نصیبین سے قریباً اڑتالیس میل موصل ہے جو بیت المقدس سے پانسو میل کے فاصلہ پر ہے اور موصل سے فارس کی حد صرف سو میل رہ جاتی ہے۔اس حساب سے نصیبین فارس کی حد سے ڈیڑھ سو میل پر ہے۔اور فارس کی مشرقی حد افغانستان کے شہر ہرات تک ختم ہوتی ہے یعنی فارس کی طرف ہرات افغانستان کی مغربی حد پر واقع ہے اور فارس کی مغربی حد سے قریباً نو سو میل کے فاصلہ پر ہے اور ہرات سے درہ خیبر تک قریباً پانسو میل کا فاصلہ ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے۔اس ارادہ سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اُٹھا دیں۔پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں ہندوستان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔۔" (روحانی خزائن جلد 15 مسیح ہندوستان میں صفحہ نمبر 67 تا 70ء)