ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 58 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 58

58 سے قتل ہونے کی موت۔“ 66 کشاف جلد 1 صفحہ 306) خدا تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا پورا کیا ان یہودیوں کے ہاتھوں مسیح علیہ السلام کو بچا لیا۔اور اس کی زندگی اور طبعی موت صرف خدا کے ہاتھ میں تھی۔چونکہ خدا تعالیٰ سب تدبیر کرنے والوں سے بڑھ کر تدبیر کرنے والا ہے۔اس نے اپنے فرستادہ کو بچانے کے انتظامات کر رکھے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ جون کے مہینے میں پیش آیا۔” حضرت مسیح جب یہودیوں کے ہاتھ گرفتار ہوئے تب شدت گرمی کا مہینہ تھا کیونکہ گرفتاری کی حالت میں اُس کا پیاسا ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ موسم کا یہی تقاضا تھا کہ گرمی اور پیاس محسوس ہو سو وہ مہینہ جون ہے کیونکہ اُس وقت ایک سخت آندھی بھی آئی تھی جس کے ساتھ اندھیرا ہو گیا تھا اور جون کے مہینہ میں اکثر آندھیاں بھی آتی ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 117) لہذا مسیح علیہ السلام کی لاش اُتارنے کی جلدی اس لئے تھی کہ چونکہ تیاری کا دن تھا۔یہودیوں نے پیلا طوس سے درخواست کی کہ ان کی ٹانگیں توڑی جائیں اور لاشیں اُتار لی جائیں تاکہ سبت کے دن صلیب پر نہ رہیں۔کیونکہ وہ سبت کا ایک خاص دن تھا۔پس سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے شخص کی ٹانگیں توڑیں جو اس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے لیکن جب انہوں نے یسوع کے پاس آ کر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں مگر ان میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اس کی پہلی چھیدی اور فی الفور اس سے خون اور پانی نکلا۔