ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 57 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 57

57 خون سے ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ مسیح ابھی زندہ ہیں۔مگر شدید مخالف یہودیوں کو باور کرا دیا گیا کہ چونکہ مسیح فوت ہو گئے ہیں اس لئے اب ان کی ہڈیاں توڑنے کا کوئی فائدہ نہیں یہودی سمجھنے لگے کہ ہماری زیادتی کی وجہ سے جس شخص کو سزا ملی ہے ہوسکتا ہے وہ خدا رسیدہ ہو کیونکہ آندھی آنا خدائی تنبیہہ تصور کی جاتی تھی انہوں نے فوراً کہا کہ اچھا اگر یہ فوت ہو گیا ہے تو اسے فی الفور دفن کر دو۔Stroude, William-On the physical cause of the death of 1 christ۔P123 قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ اور (یہود) نے تدبیر کی (کہ مسیح کو قتل کریں) اور اللہ نے بھی تدبیر کی (کہ مسیح کو بچائے ) اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سے بہتر ہے جب اللہ نے کہا۔اے عیسی ! بے شک میں تجھے وفات دینے والا ہوں (یعنی یہود تمہیں نہیں مارسکیں گے ) اور تجھے اپنے حضور اٹھانے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں کے الزامات سے ) پاک ثابت کرنے والا ہوں اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی قیامت کے دن تک تیرے منکروں پر غالب رکھنے والا (ال عمران:55،56) 66 ہوں۔“ قرآنِ پاک کی اس آیت کی تشریح میں پانچویں صدی ہجری کے مفسر قرآن علامہ زمخشری تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:- " میں تیری مدت عمر پوری کرنے والا ہوں اس کے معنی ہیں میں تجھے کافروں کے ہاتھ سے مرنے سے بچانے والا ہوں اور تیری مقرر اجل تک تجھے زندہ رکھنے والا ہوں اور تجھے طبعی موت دینے والا ہوں نہ کہ اُن کے ہاتھ