ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 97 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 97

97 سکے۔ہے ( تذكرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 65) پر روز نامہ الفضل کا تبصرہ یہ محترم حضرت اللہ پاشا اور محترم مولانا عبد الباسط صاحب شاہد کے مفید مشوروں اور نظر ثانی کے بعد شائع کی گئی ہے محترم ناظر صاحب اشاعت نے اس کا مسودہ پڑھ کر تحریر فرمایا۔” اس مضمون کے کسی حصے کی اشاعت پر کوئی اعتراض نہیں۔ہمارے قارئین نے امتہ الباری ناصر کی نظمیں بھی پڑھی ہیں۔اور نثری تحریر بھی۔اور وہ جانتے ہیں کہ امتر الباری ناصر نظم بھی اچھی کہتی ہیں اور نثر بھی نہایت شستہ اور شائستہ زبان میں مھتی ہیں۔ان کا اپنے متعلق یہ کہنا۔دینی علوم سے تہی دامنی اور فن تحریر سے نا آشنائی کے احساس کے باوجود میں نے لکھنے کی حامی بھر لی۔ایک بہت قابل قدر خاکساری کی صورت ہے۔جہاں تک اس سرگزشت کا تعلق ہے۔سلیمہ میر صاحبہ جو لجنہ اماء اللہ ضلع کراچی کی صدر ہیں نے پیش لفظ میں لکھا ہے۔خدا کے فضل سے لجنہ اماءاللہ کراچی جشن تشکر منانے کے لئے کتابیں شائع کرنے کے پروگرام کے سلسلے میں ایک اور کتاب ”ایک بابرکت انسان کی سرگزشت" کے نام سے پیش کر رہی ہے۔میں نے یہ کتاب شروع سے آخر تک پڑھی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے حالات زندگی پر ایسی مکمل کتاب اس سے قبل میری نظر سے نہیں گزری۔اس پیش لفظ سے قاری سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ سرگزشت حضرت عیسیٰ