ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 86 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 86

86 کیا اور اسی غرض کے لئے بھیجا گیا تھا اب دنیا سے عالم بالا کی طرف میرے اٹھائے جانے کا وقت آ پہنچا ہے۔تم سب کو لازم ہے کہ اپنے فرائض کی نگہداشت کرو اور جس حق کو میں نے قائم کیا ہے اسے ہاتھ سے نہ جانے دو۔“ (مسیح کشمیر میں از محمد اسد اللہ قریشی کا شمیری سن اشاعت 1978،صفحہ 103،102) اس طرح وہ انسان جو ایک عظیم الشان مقصد کے لئے صلیب۔بچایا گیا تھا مطمئن دل کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر کے لوگوں کو حق اور توحید پر قائم رہنے کی نصیحت کر کے ہر لحاظ سے سرخرو ہو کر اپنے مالک حقیقی کے حضور حاضر ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔عیسائیوں کا عقیدہ ہے: وو ” حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر جان دی اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گئے اور اپنے باپ کے دائیں ہاتھ جا بیٹھے اور پھر آخری زمانہ میں دنیا کی عدالت کے لئے زمین پر آئیں گے اور کہتے ہیں کہ دنیا کا خدا اور خالق اور مالک وہی یسوع مسیح ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں وہی ہے جو دنیا کے اخیر میں سزا جزا دینے کے لئے جلالی طور پر نازل ہو گا تب ہر ایک آدمی جس نے اس کو یا اس کی ماں کو بھی خدا کر کے نہیں مانا پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں رونا اور دانت پینا ہوگا۔“ مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد نمبر 15 ص : 6) اکثر مسلمانوں کا عقیدہ ہے: ”حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ صلیب پر مرے بلکہ اس وقت جبکہ یہودیوں نے ان کو مصلوب کرنے لئے گرفتار کیا خدا کا فرشتہ