ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 85 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 85

85 زمین پر گرتے ہیں جو تھوڑی ہے مگر صاف ہے تو وہ خوب پھلتے پھولتے ہیں۔سب سے بڑھ کر عادل وہ ہے جو لوگوں کے ساتھ اکثر اپنے نفس کو ملزم قرار دے اور سب سے بڑھ کر ظالم وہ ہے جو اپنے ظلم کو عدل سمجھے اور سب سے بڑھ کر عقلمند وہ ہے جو اپنا سامانِ آخرت درست کرے اور سب سے بڑھ کر نادان وہ ہے جو محض دنیا میں ہی مصروف ہو جائے اور سب سے بڑھ کر خوش نصیب وہ ہے جس کے اعمال تا انجام بخیر ہوں اور سب سے بڑھ کر بدنصیب وہ کہ اس کے اعمال خدا کی ناراضگی پر منتج ہوں۔ہندوستان کے بادشاہ جنسیر نے یوز آسف سے کہا ایک انسان دوسرے کا گناہوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اس پر یوز آسف نے کہا۔”اے بادشاہ! کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور گناہوں کی سزا سے نہیں بچ سکتا اے بادشاہ میرے ہاتھوں میں یہ زخم ہیں اور مجھے ان سے درد اور تکلیف ہے آپ میرے دکھ درد کو دور کر سکیں گے یا اسے ہٹا سکیں گے۔بادشاہ نے کہا ایسا کس طرح ہو سکتا ہے؟ یوز آسف نے کہا۔آپ بادشاہ ہوتے ہوئے میری تکلیف کو نہ دُور کر سکتے ہیں نہ اسے بٹا سکتے ہیں تو اگر میں آخرت میں دوزخ کی آگ میں پڑوں تو آپ مجھے اس سے کیسے بچا سکیں گے جب کہ آپ وہاں بے بس بھی ہوں گے۔“ آپ بہت ضعیف ہو گئے تھے اور خدا کے پاک لوگوں کی طرح اپنی وفات کے وقت کو قریب سمجھ رہے تھے اس لئے آخری نصیحتوں میں کہا۔” میں نے لوگوں کو تعلیم دی خدا سے ڈرایا، بیعت کی نگہداشت کی اور اگلے لوگوں کے چراغ کو روشن کیا اور ایمان والوں کی جماعت کو جو منتشر تھی مجتمع وو