ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 77
77 وو وو بنارس میں وعظ کرتے رہے واپس گلگت جا کر لداخ تبت اور نیپال کا رخ کیا۔یہاں بدھ مت کے پیرؤں نے مسیح علیہ السلام کو گوتم بدھ نیا ہیرا کی پیشگوئی کا مصداق سمجھا انہوں نے مسیح علیہ السلام سے ساڑھے پانچ سو برس پہلے کہا تھا۔” میرے بعد متیا آئے گا جو میرا چھٹا مرید ہو گا۔بدھ نے ان کا نام بگو امتیا“ بھی بتایا تھا یعنی ” سفید رنگ کا مسیحا“ چنانچہ بدھ مذہب رکھنے والوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی مانا اور اپنی زبان میں مشیحا یا می شی ہو بھی کہتے تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کو سمجھایا کہ شودر اور ولیش جنہیں ہندو ذلیل سمجھتے ہیں۔بحیثیت انسان برابر ہی کا حق رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ انسانوں سے برابر کا پیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ واحد لاشریک ہے پتھر دھات کی مورتیاں عبادت کے لائق نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام موجودہ ہندوستان اور کشمیر میں : چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے اس لئے ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کی ابتداء میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا۔“ مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد نمبر 15 ص:70) کنز العمال میں دیلمی اور ابن نجار نے حضرت جابر سے حضرت مسیح کے سفر اور ایک برفانی وادی میں پہنچنے کی روایت کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔” حضرت عیسی علیہ السلام سفر کیا کرتے تھے جب شام پڑ جاتی تو جنگل کا ساگ پات کھا لیتے اور چشموں کا صاف پانی پی لیتے اور مٹی کا تکیہ بنا لیتے پھر فرماتے تھے کہ نہ میرا گھر ہے جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ