ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 73 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 73

73 اور شہزادہ نبی کے نام سے بھی یاد کرتے تھے۔افغانستان کے باشندے وہی یہودی قبائل تھے جو بخت نصر کے عہد میں وطن چھوڑ کر مشرق میں آ بسے تھے ان کا ایمان تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ جسمانی طور پر اٹھائے گئے ہیں۔) ہرات کے قبائل کے سردار ابا بیٹی کے پاس بائبل اپنی اصل شکل میں موجود تھی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیشگوئیاں موجود ہیں انہیں پیشگوئیوں کی وجہ سے جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو یہ قبائل ان پر ایمان لے آئے اور عیسائی مسلم کہلائے دینِ حق سے قبل افغانستان میں نصرانی مذہب کے لوگ موجود تھے بعد میں مسلمان ہو گئے ان میں نصرانی مذہب کے آثار پائے جاتے تھے اور روٹی پر صلیب کا نشان بناتے تھے۔تاریخ افغانستان از علامه جمال الدین افغانی) حضرت مسیح علیہ السلام موجودہ پاکستان اور تبت میں : تو ماحواری قندھار اور کابل سے سفر کرتے ہوئے ٹیکسلا پہنچے۔ٹیکسلا کے حکمران گنڈ وفرس نے حبان نامی ایک شخص کو نصیبین کے بادشاہ کے پاس اس غرض سے بھیجا کہ وہ کسی ایسے معمار کو بھیج دے جو ٹیکسلا میں روم کے محلات کی طرز پر ایک محل تیار کر دے جب وہ نصیبین کے بادشاہ کے پاس یہ عرضداشت لے کر پہنچا اس وقت مسیح نے تو ما کو حبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ ٹیکسلا میں بادشاہ کا محل تیار کرے۔تھومانے چھ ماہ میں محل بنایا۔ایک دفعہ تھوما حواری گنڈ وفرس کی مملکت میں قیام رکھتے تھے تو حضرت مسیح علیہ السلام ان کے پاس آئے اور انہیں مشرقی جانب تبلیغ کی غرض سے روانہ کیا اور انہیں برکت کی دعا بھی دی۔