ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 7 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 7

7 تعارف قدیم سے سنت خداوندی چلی آ رہی ہے کہ جب قو میں گمراہ ہوتی ہیں تو ان کی ہدایت کے لئے ان میں نبی مبعوث فرماتا ہے اور اسی سنت کے ماتحت حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم دین کی راہ سے روگردان ہوئی اور ان کی شریعت کی تعبیر و تعمیل میں اضمحلال پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت مستمرہ کے مطابق حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔چونکہ موسوی شریعت ایک مخصوص قوم اور زمانہ کے لئے تھی لہذا شریعت موسوی کے آخری نبی نے ایک عالمگیر نبی کے آنے کی پیشگوئی کی جو آخری شریعت لے کر مبعوث ہو گا۔جو تمام قوموں اور زمانوں کے لئے ہو گی اور اس بنا پر وہ رحمت اللعالمین کہلائے گا۔حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ جس طرح موسیٰ کی شریعت کی تعبیر و تعمیل میں کمزوری اور نقص پیدا ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تجدید کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کو مبعوث کیا تھا۔اسی طرح محمد می شریعت کی تعبیر و تعمیل میں نقص اور اضمحلال پیدا ہونے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ایک امتی نبی مبعوث فرمائے گا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی خو اور سرشت لے کر آئے گا۔اس امتی نبی کا آنا گویا حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی قرار پائے گا۔اس کا منصب نہ صرف یہ ہو گا کہ مسلمانوں کو دینِ حق کی سچی تعلیم سے روشناس کرے اور ان میں دین کی روح کو زندہ کرے بلکہ عیسائیوں کو بھی ہدایت کی راہ پر قائم کرے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم نے ان کی تعلیم