ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 56
56 خدائی تائید اور تصرفات کے نتیجہ میں حضرت عیسی کو چند گھنٹے صلیب پر رہنا پڑا۔صلیب پر لٹکانے کا عمل ایسا نہیں ہوتا کہ چند گھنٹوں میں موت واقع ہو جائے ان کے ساتھ جو دو شخص مصلوب ہوئے تھے وہ بھی اس اثناء میں فوت نہیں ہوئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔خدا تعالیٰ نے دشمنوں کی آنکھوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایسے سامان کئے کہ وہ سمجھ گئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں حالانکہ وہ زندہ صلیب سے اتار لئے گئے خدا نے مصیبت میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑا بلکہ ساتھ ساتھ رہا۔اس طرح زبور کی ایک پیشگوئی بھی پوری ہوئی جس کے 34 باب میں لکھا ہے:۔اس غریب نے دہائی دی۔خداوند نے اس کی سنی اور اسے اس کے سب دکھوں سے بچا لیا۔خداوند سے ڈرنے والے کے چاروں طرف اس کا فرشتہ خیمہ زن ہوتا ہے اور ان کو بچاتا ہے۔صادق کی مصیبتیں بہت ہیں لیکن خداوند اس کو ان سب سے رہائی بخشتا ہے۔وہ اس کی سب ہڈیوں کو محفوظ رکھتا ہے ان میں سے ایک بھی توڑی نہیں جاتی۔یہ موسم بہار کی اکیسویں مارچ کی ایک ایسی شام تھی جس میں سورج گرد اور بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔تین ساڑھے تین گھنٹہ صلیب پر رہنے اور تکلیف سے بے ہوش ہو جانے والے مسیح علیہ السلام کو بچانے کے لئے خدائی تدبیروں میں سے آندھی کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیلاطوس نے جلدی جلدی ان کو صلیب سے اتارنے کا حکم دے دیا۔بھالے سے نکلنے والے 1