ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 42 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 42

42 پراگندہ تھے تب اس نے شاگردوں سے کہا فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں پس فصل کے مالک کی منت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کیلئے مزدور بھیج دئے۔اپنے بارہ حواریوں کو حکم دیتے ہیں۔” غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامر یوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا اور چلتے چلتے یہ منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی قریب آ گئی ہے۔بیماریوں کو اچھا کرنا۔مُردوں کو چلانا۔کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا، بدروحوں کو نکالنا۔تم نے مفت پایا مفت دینا۔نہ سونا اپنے کمر بند میں رکھنا نہ چاندی نہ پیسے راستہ کے لئے نہ جھولی لینا نہ دو کرتے نہ جوتیاں نہ لاٹھی کیونکہ مزدور اپنی خوراک کا حقدار دیکھو میں تم کو بھیجتا ہوں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں میں پس سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بے آواز بنو۔مگر آدمیوں سے خبردار رہو کیونکہ وہ تم کو عدالتوں کے حوالے کر دیں گے اور اپنے عبادت خانوں میں تم کو کوڑے ماریں گئے“۔(متی باب 5:1) اگر چہ یہ نصیحتیں حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے شاگردوں کو کیں مگر ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یہودیوں کے طرز عقوبت کا اندازہ تھا۔وہ اپنے مخاطبین کے جذبہ ایمانی سے پوری طرح مطمئن نہ تھے بار بار سخت الفاظ میں تنبیہ کیا کرتے تھے اور انجام سے ڈراتے تھے۔ان کو سمجھانے کے لئے کئی قسم کی مثالیں دیتے اور مستقبل کے بارے میں پر حکمت تمثیلی باتیں کرتے۔وو شام کو تم کہتے ہو کھلا رہے گا کیونکہ آسمان لال ہے۔اور صبح کو یہ کہ آج آندھی چلے گی کیونکہ آسمان لال اور دُھندلا ہے۔تم آسمان کی صورت میں تو تمیز کرنا جانتے ہو مگر زمانوں کی علامتوں میں تمیز نہیں کر سکتے“۔