ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 40 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 40

40 حضرت عیسی کی مخالفت : ایک طرف یہ جاں نثار حواری تھے اور دوسری طرف مخالفت پر آمادہ یہودی جو تعداد میں بہت زیادہ تھے اپنی تعلیمات کو فراموش کر چکے تھے۔بغض اور کینہ پروری ان کا شعار تھا۔ان کی ضد یہ تھی کہ چونکہ ایلیاہ نبی ابھی نہیں آئے اس لئے مسیح کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے۔اس کم فہمی کے نتیجہ میں وہ خدا کے بھیجے ہوئے دو نبیوں کے انکار کے مجرم ہو گئے۔نہ حضرت سکی علیہ السلام کو مانا اور نہ ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا نبی مانا۔وہ نہ صرف انکار کے مجرم ہوئے بلکہ انہیں تکلیفیں دے دے کر خدا تعالیٰ کو بالکل ناراض کر لیا۔ان کے علماء، مولوی، کاہن، فقیہہ سب کے سب کفر کے فتوؤں کے ساتھ آگ کی طرح بھڑک اٹھے عوام کو اُکساتے کہ وہ مسیح علیہ السلام کی بات نہ سنیں بلکہ انہیں کافر دجال اور ملحد کہیں۔اگر چہ یہودی ایک خدا کو مانتے تھے مگر شوخی شرارت اور تکبر میں حد سے بڑھ گئے۔اس وقت ارض فلسطین پر قیصر روم کی حکومت تھی (جس طرح کچھ عرصہ قبل برصغیر پاک و ہند پر انگریز مسلط تھے ) یہودیوں نے قیصر روم کو بھی مسیح علیہ السلام سے بدظن کرنا شروع کر دیا۔وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بُرا آدمی نہ کہتے تھے مگر ایک ضد تھی کہ وہ خود کو خدا کا نبی کیوں کہتے ہیں جب کہ ایلیاہ اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان سے نہیں اترے۔ایک دوسرا اعتراض ان کا یہ تھا کہ وہ داؤد علیہ السلام کی طرح تخت پر بیٹھ کر بادشاہی کیوں نہیں کرتے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میری بادشاہت آسمانی اور روحانی ہے زمینی نہیں ہے مگر یہودی اس تاویل کو بھی نہ مانے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے