ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 35
35 تھے مگر یہ خدا اور بندہ کے مفہوم میں بولے جاتے تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے خود کو عبداللہ کہہ کر سارا مسئلہ حل کر دیا۔کیونکہ باپ اگر بچے کو کچھ دے سکتا ہے تو شفقت مہربانی اور پیار جب کہ خدا اپنی تمام تر صفات کے ساتھ اپنے بندے کو شریک نہیں بناتا کچھ عکس عطا فرماتا ہے۔خدائی بندے کو دی ہی نہیں جاسکتی خدا ہر قسم کی احتیاج سے پاک ہے اور اس کو کبھی فنا نہیں جبکہ بندے کی لا محدود ضروریات ہیں اور وہ فانی ہے حضرت عیسی علیہ السلام خود کو ہمیشہ ایک عاجز بندہ یا ابنِ آدم کہتے۔توریت کی تعلیم : دوسرا اعزاز جو خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو عطا فرمایا یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی الہامی کتاب توریت کو دوبارہ پڑھانے اور سمجھانے کا کام کریں۔حضرت عیسی علیہ السلام خود شرعی نبی نہ تھے۔اس کی دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کا وہ قول ہے جو انجیل میں آتا ہے۔یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ملے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔“ متی باب 15 آیت 17، 18) آپ سے سن کر توریت کی تعلیمات اور وہ خوشخبریاں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا کی گئیں آپ کے شاگردوں نے جمع کیں۔جن کو انجیل، نام دیا گیا۔انجیل کا مطلب ہے خوشخبری۔