ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 69
69 سے خوش ہو کر اس کے مطالبہ پر اس پیغمبر کا سر قلم کر کے طشتری میں رکھ کر نابکار رقاصہ کے سامنے پیش کیا گیا۔نبطی شہزادی اپنی سوکن کے اس دہلا دینے والے ظلم سے بیزار ہو کر اور اس ناپاک کاروائی سے متنظر ہو کر اپنے باپ کے پاس بھاگ گئی۔منبطی شہزادی کے دل میں حضرت یحیی علیہ السلام کی بڑی قدر تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام بیٹی کے قریبی عزیز تھے اس مملکت کو اپنے لئے محفوظ سمجھتے ہوئے پہلے وہیں گئے۔اور صحراء میں پھرتے پھراتے عرب بھی پہنچے جہاں حواری اور پولوس آ کر آپ سے ملتے رہتے۔آپ نے حج بھی کیا ”وادی مکہ میں سے ستر نبی گزرے ہیں جو سرخ اونٹوں پر سوار تھے اور ان اونٹوں کی مہاریں کھجور کی چھال کی تھیں اور ان نبیوں کے لباس چنے تھے وہ مختلف الفاظ میں لبیک کہتے تھے۔“ ( حدیث اخبار مکہ مکتبه خیاط بيروت ص: 39،38) حضرت عیسیٰ کہتے تھے میں حاضر ہوں تیرا بندہ ہوں تیری بندی کا بیٹا ہوں جو تیرے دونوں نیک بندوں کی بیٹی تھی میں حاضر ہوں۔“ حدود حرم میں حواری اور حضرت عیسی ننگے پاؤں چلتے تھے۔آپ اور آپ کی والدہ چاہ زمزم سے سیراب ہوئے۔” حضرت مسیح علیہ السلام نے اسی سفر کے دوران اپنے بعد ایک الشان نبی کی آمد کی خوشخبری بھی سنائی جس کا نام احمد ہو گا اور دوسرا نام محمد ہو گا اور لوگوں کو کہا کہ جو اس نبی پر ایمان لائے گا اور اس کی اطاعت کرے گا وہ میری اطاعت کرے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ میری نافرمانی کرے گا۔(بحار الانوار جلد 5 صفحہ 340، حیات القلوب جلد 1 از ملا باقر مجلسی مطبوعه ایران) حضرت مسیح نے آنے والے معزز نبی کے لئے ” دوسرا مددگار