ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 17
17 بیٹی عطا فرمائی۔اس پر اسے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ کام جس کے لئے اس نے اپنی اولا د وقف کی تھی لڑکی سے نہ ہو سکے گا۔اس نے گھبرا کر دعا کہ ” الہی اب کیا کروں میرے گھر میں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے؟“ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ جو بیٹی اس نے عنایت کی ہے وہ اس شان والی ہے کہ اس کے برابر کا کام بعض لڑکے بھی نہیں کر سکتے۔اس نے بچی کا نام مریم رکھا۔مریم کی والدہ کی نیت اپنی اولاد کو دین کی راہ میں وقف کرنے کی تھی اس لئے اس نے دعا کی۔( تفسیر کبیر جلد نمبر 5 ص: 155) إِنِّي أُعِيْدُ هَابِكَ وَ ذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (ال عمران : 37) ترجمہ: کہ (خدایا) میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حملہ سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ان کا ارادہ تھا کہ مریم کی نیک تربیت کریں گی۔ان کی شادی کریں گی اور ان کی اولاد سے تبلیغ دین کا کام ہو سکے گا۔چنانچہ انہوں نے مذہبی عبادت گاہ (ہیکل) میں ایک بزرگ حضرت زکریا علیہ السلام کی نگرانی میں مریم کو دے دیا۔اس جگہ زکریا سے وہ زکریا مراد نہیں جن کی کتاب بائبل میں شامل ہے۔وہ زکریا 487 سال قبل مسیح گزرے ہیں اور یہ زکریا وہ ہیں جو حضرت مسیح کے قریب کے زمانے میں آپ کی والدہ کے کفیل تھے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذکریا بھی نبی تھے لیکن انا جیل میں ان کا ذکر بطور کا ہن کیا گیا ہے بطور نبی نہیں۔66 ( تفسیر کبیر پنجم صفحہ 117)