ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 125 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 125

رکھنا چاہئے اور خاوند کی توجہ اور محبت اور شفقت اس زمانہ میں اور بھی بڑھ جانی چاہئے۔قرآن کریم نے بھی عورت کی اس کیفیت کی طرف توجہ دلائی ہے جہاں فرمایا ہے کہ اولا دکو یا درکھنا چاہیے کہ کسی تکلیف اور بے چینی کی حالت میں ماں نے اسے اٹھائے رکھا اور اُسے جنا اور پھر اس کی پرورش میں مصروف رہی۔خاوند کو چاہئے کہ شفقت اور ہمدردی اور توجہ کے علاوہ اس عرصہ میں دعاؤں میں مصروف رہے کہ یہی طریق سب سے بہتر ہمدردی کے اظہار کا ہے اور یہ دعائیں صرف بیوی کے لئے نہ ہوں بلکہ ہونے والے بچے کو بھی ان میں شامل کیا جائے۔اسلام نے بچے کی پیدائش کے موقعہ پر پھر اس کی تربیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہنے کا حکم ہے۔اس میں بھی یہ حکمت ہے کہ والدین کو توجہ دلائی جائے کہ ابھی سے بچے کی تربیت کی طرف تو جہ اور ان اصولوں اور ان مقاصد کو مد نظر رکھ کر اس کی تربیت ہونی چاہئے جو اذان میں بیان کئے گئے ہیں۔موجودہ زمانہ میں عورت مرد کی مساوات کا بہت چرچا رہتا ہے اور جس طرح باقی امور میں دنیا افراط و تفریط کی طرف جارہی ہے اسی طرح اس معاملہ میں بھی بعض لوگ ایک طرف حد سے آگے نکل گئے ہیں اور بعض لوگ دوسری طرف۔قرآن کریم نے ایک طرف تو اس مساوات کو یہ کہکر قائم کیا ہے کہ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ۔یعنی عورتوں کو ویسے ہی حقوق ہیں جیسی کہ ان پر ذمہ داریاں ہیں اور دوسری طرف اس امر کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ اس اشتراک میں جو عورت اور مرد کے درمیان قائم ہوتا ہے سینئر شریک مرد ہے۔بے شک بحیثیت انسان مرد اور عورت دونوں برابر ہیں لیکن قدرت نے جو اختلاف دونوں کے درمیان رکھا ہے وہ خود اس بات پر شاہد ہے کہ حیات انسانی میں دونوں کا حلقہ عمل اور دونوں کے فرائض ایک دوسرے سے بہت حد تک مختلف ہیں۔اس حلقہ عمل اور ان کے سورة البقرة آیت 229 125