ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 135 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 135

وارث کو وراثت سے محروم کر دے یا اس کا حصہ کم کر دے۔اور شرعاً یہ بھی ناجائز ہے۔(گو فقہ کی رو سے ایسی کوئی پابندی نہیں) کہ اپنی زندگی میں کچھ جائداد ایک وارث کو دیدے جب تک دیگر ورثاء کو بھی اس کے مقابلہ میں اُن کے حصہ کے برابر جائداد نہ دے۔اور وصیت کے بعد جو ترکہ بیچ رہے اس میں سے اول تو متوفی کی تجہیز و تکفین کے مصارف ادا کئے جائیں پھر اس کے قرضے ادا کئے جائیں اور پھر جو خالص ترکہ بچے وہ اس کے ورثاء میں ان کے مقرر شدہ حصوں کے مطابق تقسیم ہو۔اسلامی قانونِ وراثت کے ماتحت ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ یا بیوگان والد۔والدہ بیٹے۔بیٹیاں جو بھی زندہ ہوں سب وارث ہوتے ہیں البتہ برابر کے درجہ کے وارثوں میں مرد کا حصہ عورت کے حصہ سے دُگنا ہوتا ہے۔ورثاء کی اس کثرت کی وجہ سے ایک مسلمان کا ترکہ بہت جگہ تقسیم ہو جاتا ہے اور وراثت ایک ہی جگہ جمع نہیں ہوتی۔غیر مسلموں کی طرف سے بعض دفعہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرد کا حصہ عورت کے حصّہ سے زیادہ کیوں رکھا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی قانون کے ماتحت خاوند خواہ کتنا ہی تنگدست ہو اور بیوی کے پاس خواہ کتنی ہی جائداد ہو خاوند کا فرض ہے کہ وہ اپنی جائداد کی آمدنی سے یا اپنی کمائی میں سے بیوی اور بچوں کی پرورش کا انتظام کرے اور ان کے جملہ اخراجات کا متحمل ہو۔تو گویا ہر مرد کے ذمہ اپنی بیوی اور بچوں کی پرورش لگائی گئی ہے اور عورت خواہ کیسی ہی مالدار ہو اس کے ذمہ یہ فرض نہیں لگایا گیا۔چونکہ مرد پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے اور عورت اس سے آزاد ہے اس لئے وراثت میں مرد کا حصہ عورت کی نسبت دگنار کھا گیا ہے۔پھر ورثاء کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ اگر ایک شخص معذور ہے اور اپنے گزارہ کا انتظام نہیں کر سکتا اور نہ ایسی جائدا درکھتا ہے جسے وہ اپنے گزارہ کی سبیل بنا سکے تو ان لوگوں کا جو اس کے مرنے پر اس کے وارث ہوتے ہیں فرض ہے کہ حصہ رسدی اس کے گزارہ کا انتظام کریں۔غرض اسلام نے ایک ایسا اقتصادی نظام قائم کیا ہے کہ جس کے ماتحت انفرادیت اور 135