ایک عزیز کے نام خط — Page 99
کہ ایک حصہ نماز میں پوری توجہ یا پورا خشوع اور خضوع انسان کے دل میں پیدا نہیں ہوتا تو دوسری رکعت میں اس کمی کو پورا کر لیا جاتا ہے اور اس طرح نماز کا ہر حصہ مکمل طور پر ادا ہوسکتا ہے اور اس سے پورا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ عمدہ سے عمدہ غذا کا بھی صرف ایک لقمہ ہی ہماری جسمانی سیری اور تر و تازگی کے لئے کافی نہیں ہوتا اور متعدد لقمے اور ایک خاص مقدار غذا کی اس غرض کے پورا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔اسی طرح اس روحانی غذا کی بھی صورت ہے۔اور یہی جواب اس سوال کا بھی ہے کہ دن اور رات میں بار بار نماز کی تاکید کیوں کی گئی ہے۔کیونکہ جیسے انسانی جسم تھوڑے تھوڑے وقفہ پر کوفت اور خشکی محسوس کرنے لگتا ہے اور اسے غذا کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح انسانی روح پر بھی تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد روحانی کوفت اور خشکی کا اثر ہونے لگتا ہے اور اسے تازگی حاصل کرنے کے لئے روحانی غذا کی ضرورت پڑتی ہے۔اور اس عام اعتراض کا جواب کہ ظاہری صورت پر کیوں زور دیا گیا ہے، یہ ہے کہ بے شک اصل چیز قلبی اور روحانی حضور اور بجز اور اضطرار اور خشوع اور خضوع ہے لیکن روح کو قائم رکھنے کیلئے جسم کا قیام ضروری ہے۔انسان کے لئے دودھ ایک غذا ہے لیکن دودھ کو محفوظ رکھنے کیلئے برتن کی ضرورت ہے۔اگر برتن تو ڑ دیا جائے تو دودھ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ایسے ہی جب جسم پر موت آجاتی ہے تو روح بھی اپنی موجودہ حالت پر قائم نہیں رہ سکتی۔نماز کی مختلف دعا ئیں تو تمہیں یاد ہی ہیں لیکن مجھے علم نہیں کہ ان کا ترجمہ اور مفہوم کہاں تک تم سمجھتے ہو ا سلئے میں اس جگہ نماز کے ضروری حصوں کا سادہ مفہوم بیان کر دیتا ہوں : بسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جس نے محض اپنے رحم سے ہماری تربیت اور ترقی کے سب سامان مہیا کئے اور جو ہمارے اعمال کا عمدہ سے عمدہ بدلہ دیتا ہے۔سُبْحَنَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ۔بے عیب ہے تو اے اللہ اور تو ہی حقیقی طور پر 99