ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 98 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 98

اور انکسار والی صورت بنائے اور ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑا ہو جائے تو اس کا جوش اور غضب بھی ہلکا ہو جائے گا۔اسی لئے نماز میں ادب اور انکسار کی حالتیں مقرر کی گئی ہیں کہ جہاں نماز پڑھنے والے کا دل اس خیال سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے بجز اور انکسار سے پُر ہے وہاں اس کی ظاہری حالت بھی ایسی ہی ہو۔چنانچہ ان حالتوں میں دل کی حالت جسم کی ظاہری حالت کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے اور جسمانی حالت دل کی حالت پر اثر ڈالتی ہے۔نماز میں پہلے انسان ہاتھ باندھ کر با ادب کھڑا ہوتا ہے۔پھر جب اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور جوش مارتی ہے اور اس کا عجز و انکسار محبوب حقیقی کے حضور میں بڑھتا ہے تو وہ بے قرار ہو کر رکوع میں چلا جاتا ہے اور جب اس سے بھی اس کی بے قراری بڑھتی ہے تو وہ سجدہ میں گر جاتا ہے اور اپنا سر آستانہ الہی پر رکھ دیتا ہے۔اور ایک رکعت کے پورا ہو جانے پر نئے سرے سے اپنی عبودیت کا اظہار شروع کر دیتا ہے اور نماز میں جو جو حرکات اور مقامات مقرر کئے گئے ہیں وہ عین ادب اور عجز و انکسار کا اظہار کرنے والے ہیں۔اور مختلف مذاہب نے جو جو درست طریق اس اظہار کے لئے اختیار کئے ہیں ان سب کا مجموعہ نماز میں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر۔پھر بعض دفعہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہر نماز میں متعد در کعتیں اور سنتیں اور فرائض اور نوافل کیوں مقرر کئے گئے ہیں؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ تکرار کا اثر انسانی طبیعت پر مسلمیہ ہے اور ایک حد تک تکرار کرنے سے انسان کے دل کی کیفیت زیادہ سے زیادہ اثر پذیر ہوتی جاتی ہے اور اگر تو جہ سے نماز ادا کی جائے تو قلب انسانی زیادہ سے زیادہ متاثر ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کی عجز و تضرع کی حالت بڑھتی جاتی ہے۔اور ظاہری مثال اس کی یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ اگر نماز انسانی دماغ اور قلب کے لئے روحانی غذا ہے تو اس غذا کی بھی ایک مقدار ہونی چاہئے جو دل اور دماغ کی سیری کے لئے کافی ہو یعنی قلب انسانی سے بیرونی اثرات کو دور کر کے پھر اسے روحانی طور پر تازہ اور مصفی کر دے اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے 98