ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 78 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 78

عذر کرنے لگ گئے ہیں کہ دنیا کی طرز اس قدر بدل چکی ہے کہ اسلامی تمدن اور اسلامی معاشرت اپنے اصلی رنگ میں قائم نہیں رہ سکتے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کو اس زمانہ میں مبعوث فرمایا تا آپ کے ذریعہ سے اسلام کی ترقی کے نئے دور کی بنیا درکھی جائے۔اور اسلام پھر اپنی آب و تاب میں ظاہر ہو۔صلى الله مسلمانوں کی طرف سے بڑا اعتراض جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہیں آسکتا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔یہ ایک لمبا مسئلہ ہے۔لیکن مختصر طور پر ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ قرآن کریم آخری شریعت ہے اور چونکہ یہ ہر رنگ میں کامل ہے اس لئے اس کے بعد کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں اور نہ کوئی نیا شارع نبی آسکتا ہے جو اسلامی شریعت کو منسوخ کرے یا اس کی ترمیم کرے۔اور نہ کوئی ایسا نبی آسکتا ہے جس کو بغیر اتباع نبی کریم ﷺہ نبوت کا درجہ عطا ہو کیونکہ بجز آپ کی اتباع کے اور قرآن کریم پر عمل کرنے کے کوئی شخص مومن بھی نہیں بن سکتا۔چہ جائیکہ اعلیٰ ترین روحانی انعام یعنی درجہ نبوت کو پاسکے لیکن اس رنگ میں نبی آسکتا ہے کہ وہ اتباع نبی مہ میں فنا فی الرسول کا مقام حاصل کرلے۔اور اللہ تعالیٰ اسے کثرتِ مکالمہ، مخاطبہ سے مشرف فرمائے اور اسے تجدید اسلام کے لئے مقرر فرمائے اور اسے نبوت کا درجہ عطا فرمائے کیونکہ ایسی نبوت رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا ہی ظل اور جزو ہے۔اور حضور ﷺ کی نبوت سے الگ نہیں۔اور ایسی نبوت امت محمدیہ کے لئے ایک رحمت ہے اور ختم نبوت کے منافی نہیں۔اور امت محمدیہ کو دوسری امتوں سے ممتاز کرتی ہے۔کیونکہ ان کی تعلیمیں اور شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ان کی تجدید اور احیاء کے لئے اب کسی خاص انتظام کی ضرورت نہیں۔لیکن قرآن کریم زندہ ہے اور منسوخ نہیں ہوسکتا۔اور اس کی باطنی حفاظت کے لئے اور اس کی تعلیم کے مطابق نمونہ قائم کرنے کے لئے ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے احیاء کا انتظام ہو سو وہ ظلی نبوت کا سلسلہ ہے جو اس امت میں جاری ہے۔78