ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 74 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 74

وہاں آنکلا۔اس نے آپ کی تلوار درخت سے اتار لی اور آپ کو سوتا پا کر آپ پر چڑھ آیا۔آپ کی نیند کھل گئی تو اس نے کہا اے محمد بنتا اس وقت تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ۔یہ سادہ اور بے ساختہ اور پر تو کل جواب سنتے ہی اس شخص پر کچھ ایسا رعب چھا گیا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔آپ نے اس کی سراسیمگی سے فائدہ اٹھا کر جلدی سے یہ تلوار اپنے قبضہ میں کر لی اور اس سے کہا۔اب تو بتا تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے جواب دیا، کوئی نہیں۔آپ ہی رحم کریں۔آپ نے اسے معاف کر دیا۔اعتدال پسندی آپ علیہ کی طبیعت تصنع اور تکلف سے بالکل پاک تھی۔آپ نے فرمایا کہ بعض دفعہ نماز پڑھاتے وقت میں چاہتا ہوں کہ نماز کولمبا کروں مگر اس وقت کسی بچے کے رونے کی آواز میرے کان میں پڑ جاتی ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اس کی ماں نماز میں شامل ہوگی اور اسے پریشانی ہوگی تو میں نماز کو مختصر کر دیتا ہوں۔کسی جھوٹے مدعی نبوت کے منہ سے ایسی صاف اور سچی بات کبھی نہیں نکل سکتی۔ایک دفعہ آپ کے پاس شکایت پہنچی کہ فلاں مسجد میں امام عشاء کی نماز بھی کردیتا ہے۔اس وقت آپ نے بہت رنج کا اظہار کیا اور فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں دین سے بیزاری پیدا کرتا ہے۔امام کو چاہئے کہ اس بات کا خیال رکھے کہ اس کے یچھے بچے اور بوڑھے بھی نماز پڑھ رہے ہیں اور ایسے لوگ بھی جو دن بھر کام کر کے تھکے ماندے ہو رہے ہیں، ان کا خیال رکھنا چاہئے۔آپ کی ہدایت تھی کہ باجماعت نماز لمبی نہ کی جائے۔ہاں اپنے طور پر لوگ جس قدر لمبی عبادت چاہیں کریں۔چنانچہ میں ذکر چکا ہوں کہ آپ خود نوافل میں اس قدر لمبا قیام فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں بعض دفعہ متورم ہو جایا کرتے تھے۔اور آپ رات کا اکثر حصہ نوافل میں گزار دیتے تھے۔74