ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 37 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 37

ہوتا ور نہ یہ ہونہیں سکتا کہ جو شخص حقیقتا اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان رکھتا ہو اور یہ ایمان رکھتا ہو کہ اللہ تعالی کی ایک صفت بندوں کے ساتھ کلام کرنا بھی ہے وہ بھی یہ خیال کرے کہ اب وہ صفت معطل ہو چکی ہے۔یا مسلمان ہوتا ہو ا وہ یہ خیال رکھے کہ پہلے زمانہ میں تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ کلام کیا کرتا تھا لیکن امت محمدیہ سے وہ کچھ ایسا خفا ہے کہ امت محمدیہ کے کامل سے کامل افراد کو بھی یہ شرف حاصل نہیں ہوسکتا۔دراصل ایسا قیاس نہ صرف اللہ تعالیٰ سے متعلق بدظنی ہے بلکہ انسان کی روحانی ترقی کو بھی بالکل روک دینے والا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر یہ سچ ہو کہ کلام الہی کا سلسلہ بند ہے تو اللہ تعالیٰ کے عشاق تو اپنی جانیں کھو بیٹھیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان حق الیقین تک نہ پہنچ سکے۔اس لئے یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ اب بھی اپنے پیاروں کے ساتھ ویسے ہی کلام کرتا ہے جیسے پہلے کیا کرتا تھا۔اور جوں جوں انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ بڑھتا ہے وہ اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ظہور بھی دیکھتا ہے خواہ خفی طور پر ہو اور خواه جلی طور پر اور خواہ اس صورت میں کہ اس کی مثال شبنم یا بوندا باندی کی ہو اور خواہ موسلا دھار بارش کی شکل میں۔2 مئی خدائے غفور ایک صفت اللہ تعالیٰ کی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشتا ہے نہ صرف اس طور پر کہ وہ ان گناہوں کی سزا یا بدلہ یا نقصان سے بچ جاتے ہیں بلکہ اس طور پر بھی کہ خدا ان کے گناہوں کو محو کر دیتا ہے کہ گویا وہ کبھی صادر ہی نہیں ہوئے تھے کیونکہ اس کو ہر چیز پر 37