ایک عزیز کے نام خط — Page 16
تعریف انہوں نے ان بلبلوں کی کی ہے اور جو اشارات انہوں نے انکی حقیقت سے متعلق کئے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے آگے اب یہی مرحلہ رہتا ہے کہ وہ یہ تسلیم کر لیں کہ تمام مادہ کی ابتداء ایک قادر ہستی کے ارادہ کے اظہار سے ہوئی۔گویا سائنس بھی اب دبی زبان سے تسلیم کرنے لگ گئی ہے کہ تمام مادہ کی خلق امر الہی سے ہوئی ہے۔ترقی کے دور جیسا میں اوپر بیان کر چکا ہوں ہر ذرہ میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص صفات ودیعت کی ہیں جن کے مطابق وہ ترقی کی اہلیت رکھتا ہے اور مناسب اسباب اور حالات میسر آنے پر ان کے مطابق ترقی کر سکتا ہے۔مثلاً بعض ذرات میں ایسی صفات رکھدی گئی ہیں کہ وہ پتھر بن سکتے ہیں لیکن اپنی ذات میں تدریجی ترقی کرتے ہوئے پتھر سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔بعض ہیرے بن سکتے ہیں، بعض موتی، بعض کوئلہ۔پھر بعض میں ایسی صفات رکھدی گئی ہیں کہ وہ سونا چاندی، لوہا، تانبا وغیرہ بن سکتے ہیں۔بعض میں ایسی صفات رکھی گئی ہیں کہ وہ حشرات الارض اور سانپ ، بچھو، چوہے بن سکتے ہیں۔بعض میں ایسی صفات رکھی گئی ہیں کہ وہ ہر قسم کی سبزی اور اناج اور درخت اور پھل بن سکتے ہیں اور بعض کے اندر مختلف قسم کے جانور بننے کی صفات ہیں اور بعض میں ازل سے ہی انسان بننے کی صفات رکھدی گئی ہیں۔یہ تو ایک زنجیر مختلف قسم کی ترقیات کے دوروں کی ہے پھر ایک اور قسم کی ترقی کا دور بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔مثلاً زمین کے ذرات اور سورج کی روشنی اور گرمی اور چاند کے نور اور ہواؤں کے اثرات اور بارش کی تازگی سب نے مل کر سبزی یا پھل کی شکل میں ظہور کیا۔ادھر اسی قسم کے اثرات کے تحت جانور بنا۔انسان بنا۔اب اس سبزی یا پھل کو کسی جانور یا انسان نے کھا لیا تو اس کے بعض اجزا جانور یا انسان کی ہستی کا جزو بن گئے اور انکے اندر حیواناتی یا انسانی صفات پیدا ہو گئیں۔یا جانور کو انسان نے اپنی خوراک بنایا تو ویسی ہی تبدیلی اس جانور کے اجزاء میں پیدا ہوئی اور اس کے بعض اجزاء نے انسان کے اجزاء کی شکل اختیار کرلی۔16