ایک عزیز کے نام خط — Page 15
لیکن تمام قسم کی مخلوقات کے لئے تدریجی ترقی کا قانون مقر ر ہے۔یعنی یہ ترقی آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ہوتی ہے اور کئی ہزار سال کے عرصہ میں جاکر ایک دور ترقی کا مکمل ہوتا ہے۔صانع قدرت اور مصور عالم چونکہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس لئے اس نے جلدی کو کہیں جگہ نہیں دی وہ تو وقت اور زمانے کا بھی مالک ہے اور ہر شے پر حاکم ہے۔اسے جلدی کی ضرورت نہیں۔جلدی کی محتاج وہ ہستیاں ہوتی ہیں جن پر موت آنے والی ہو یا جو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جلد منتقل ہو جانیوالی ہوں۔اور جن کے لئے ضروری ہو کہ وہ وقت کی ایک مقررہ حد کے اندر ایک کام کو پورا کرلیں یا ایک خاص نتیجہ پیدا کر لیں۔امر الہی ہر شے جو معرض وجود میں آئی ہے اس کی پہلی کڑی خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔یعنی اگر ہم کائنات سے متعلق کھوج لگا نا شروع کریں کہ فلاں چیز کہاں سے پیدا ہوئی اور فلاں کہاں سے تو ہم کھوج لگاتے لگاتے ایک ایسے نقطہ پر پہنچ جائیں گے کہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس سے آگے بس امرالہی ہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔چنانچہ سائنس دانوں نے جو کھوج لگانا شروع کیا تو پہلے تو کہا کہ تمام مادہ نہایت ہی باریک ذرات سے بنا ہے اور ان باریک ذرات کا جب آپس میں جوڑ ہوتا ہے تو اس جوڑ کی ترکیب اور ہیئت کے لحاظ سے مختلف شکلیں مادہ کی بنتی جاتی ہیں۔پھر جب سائنس دان مادہ کی گنہ دریافت کرتے کرتے ذرات سے آگے بڑھے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ذرات مجموعہ ہیں نہایت لطیف بجلی کی مانند طاقت اور کشش رکھنے والے بلبلوں کا جو نہایت تیزی سے ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔اور بوجہ اس کشش کے جو ایک دوسرے کے لئے ان کے اندر رکھدی گئی ہے۔بعض ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ ایسا جوڑ اور رشتہ قائم کر لیتے ہیں کہ وہ مل کر ذرات بن جاتے ہیں۔سائنس والے تو شاید بہت عرصہ میں جا کر اس سے آگے بڑھیں گے لیکن جو 15