ایک عزیز کے نام خط — Page 127
زیادہ ایک غلام کی رہ جاتی ہے حالانکہ یہ طریق اسلام کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔جو حدود اسلام نے مقرر فرمائی ہیں ان کے اندر اندر عورت کو اُسی قسم کی آزادی فکر اور غور اور تجویز اور فیصلہ اور عمل کی ہونی چاہیئے جیسی کہ مرد کو اس کے اپنے حلقہ عمل میں ہے ورنہ گھر کا انتظام خوش اسلوبی سے نہیں چل سکتا اور اُس کے کئی پہلو ادھورے رہ جانے کا احتمال ہے جو مرد کے لئے بھی پریشانی اور زحمت کا باعث ہوگا اور عورت کے لئے بھی اور اس کا اثر بچوں کی تربیت پر بھی پڑے گا۔تربیت اولاد پھر جب بچے پیدا ہو جائیں اور ایک گھرانے کی صورت بن جائے تو ایک طرف ماں باپ کو ہدایت ہے کہ وہ بچوں کی تربیت نرمی اور شفقت سے کریں اور دوسری طرف بچوں کو ہدایت ہے کہ وہ ماں باپ کی فرمانبرداری اور ان کی عزت کریں اور ان کے ساتھ احترام سے پیش آئیں۔اور جوں جوں بچے بڑے ہوتے جائیں اور ماں باپ بوڑھے ہوتے جائیں بچوں کی طرف سے محبت اور شفقت کا اظہار بڑھتا جائے اور پورے طور پر ماں باپ کی خدمت بجالائیں۔تربیت اولاد سے متعلق ایک اصول رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے نہایت لطیف طریقہ پر سکھایا ہے جس کی طرف عام طور پر بہت کم توجہ کی گئی ہے آپ نے فرمایا ہے اسحرِ مُوا أَوْلَادَكُمْ یعنی اپنی اولاد کا اکرام کرو یعنی محبت اور شفقت کے علاوہ اُنکے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ایسے سلوک کے نتیجہ میں اولاد کے دل میں اپنے پر اعتماد بڑھے گا۔اس کی ہمت بلند ہوگی ، اور وہ عمدہ آداب و اخلاق آسانی سے سیکھ سکے گی۔افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں والدین اولاد کی تربیت کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ماؤں کو تو مجبوراً کسی حد تک توجہ کرنی پڑتی ہے لیکن باپ عموماً اس ذمہ داری کے اٹھانے سے گریز کرتے ہیں اور صرف یہی 127