ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 126 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 126

فرائض کو مد نظر رکھتے ہوئے مرد پر زندگی کے نسبتا کرخت فرائض اور بھاری ذمہ داریاں لگائی گئی ہیں اور عورت کے سپر دنسبتا نازک کام کئے گئے ہیں اور انہیں فرائض اور ذمہ داریوں کے مطابق اُن کی جسمانی ساخت اور اُن کے قومی کی طاقت اور تربیت بھی ہے تا کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریق پر سرانجام دے سکیں۔مثلاً مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی محنت سے اپنے لئے اور اپنی بیوی بچوں کے لئے روزی کمائے اور ان کے آرام کے سامان حتی المقدور مہیا کرے اور اُن کی حفاظت کرے اور ہر قسم کے خطرات کے مقابلہ میں ان کے لئے ایک سپر ہو۔دنیا میں جہاں بھی شراکت ہوگی وہاں لازماً ایک شریک کو دوسروں کی نسبت کچھ اختیارات زیادہ دیئے جائیں گے تا کہ اختلاف کی صورت میں اسے آخری فیصلہ کا اختیار ہو۔یہ اختیارات ہر موقعہ اور محل پر استعمال نہیں ہوں گے۔بلکہ میاں بیوی کا رشتہ تو ایسا ہے کہ اگر دونوں اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھیں تو ایسے اختیارات کے استعمال کے مواقع بھی پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔لیکن اگر ان کے استعمال کا موقع پیدا ہوتو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اختیارات کسے حاصل ہیں۔اسلام نے تو رفع اختلافات کا اس حد تک انتظام کیا ہے کہ چھوٹے سے سفر کو بھی اس دائرہ سے باہر نہیں رکھا اور تاکید کی ہے کہ جب دو یا دو سے زیادہ لوگ اکٹھے سفر کے لئے نہیں تو اپنا ایک امیر مقرر کرلیں اور سفر کے دوران میں اُس کی اطاعت کریں۔اور میاں بیوی کا ساتھ تمام زندگی کے سفر کا ساتھ ہے اس سفر کا بھی تو کوئی امیر ہونا چاہئے۔اور اس سفر کا امیر اسلام نے مرد کو مقرر کیا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ روزی کمانا اور مال کا بہم پہنچانا اُس کے ذمہ ہے اس لئے اس مال کے خرچ کرنے اور دیگر انتظامات وغیرہ سے متعلق بھی اُسے آخری فیصلہ کا اختیار ہونا چاہیے۔لیکن تم پڑھ چکے ہو کہ اسے حسنِ سلوک اور نرمی اور شفقت اور ہمدردی کی کس قدر تاکید کی گئی ہے۔بعض لوگ جو بالکل دوسری طرف نکل گئے ہیں وہ عورت کو انسانیت کا درجہ بھی نہیں دیتے اور ہر اختیار سے اسے کلی طور پر محروم کر دیتے ہیں اور اس کی حیثیت گھر میں زیادہ سے 126