ایک عزیز کے نام خط — Page 12
اپنی مشکلات کا احساس تھا اور اگر اس وقت کوئی ہمدردانہ ہاتھ ہماری مدد کے لئے بڑھایا جاتا تو ایک طرف ہمارے دل جذبہ شکر سے لبریز ہو جاتے اور دوسری طرف زندگی کے کئی گوشے جو اس وقت اندھیرے اور بھیا نک نظر آتے تھے ہمارے لئے روشن اور خوشگوار ہو جاتے۔لیکن جب ہم خود ان مراحل سے گذر چکے تو ہم نے ان مشکلات کو نظر انداز کر دیا۔اور اب جب ہماری آئندہ نسل پر آہستہ آہستہ وہی زمانہ آرہا ہے تو ہمیں ان کی مشکلات کی طرف کوئی توجہ نہیں اور ہماری طرف سے ان کے ساتھ نہ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے نہ مدد کا ہاتھ بڑھایا جاتا ہے۔میں آج اس کوشش کو شروع کرتا ہوں کہ اس کوتاہی کا ازالہ کیا جائے میں نہیں جانتا کہ میں اس کوشش میں کامیاب ہو سکوں گا لیکن بہر حال ایک تو میں نے اپنی بساط کے مطابق کوشش کر لی ہوگی اور دوسرے کم سے کم تمہاری طبیعت میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ تمہارے عزیزوں میں سے کسی نہ کسی کو تو تمہاری آئندہ زندگی سے متعلق گہری فکر ہے۔پیشتر اس کے کہ میں اس تمہید کو ختم کروں میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم اس تحریر کو محض ایک ذہنی لطیفہ سمجھ کر نظر انداز نہ کر دینا بلکہ سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ اس پر غور کرنا اور اس کے عمل کرنے والے حصوں پر عمل کرتے چلے جانا۔جو اعتماد میں نے تمہارے فہم اور دانش پر اس کے لکھنے میں کیا ہے اس اعتماد کے مستحق ہونے کا ثبوت تم اس تحریر پر فکر کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے دے سکتے ہو۔اور اگر تمہیں اپنی ترقی اور اپنی زندگی کو ایک عمدہ اسلوب پر چلانے کی اتنی ہی فکر پیدا ہو جائے جس قدر مجھے تمہارے متعلق ہے تو پھر میری فکر اس یقین میں بدل جائے گی کہ تم اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اور اس کی عطا کی ہوئی توفیق سے ضرور اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔سب سے پہلے اس امر کو ذہن نشین کر لو کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی خلعت اور ایک بہت بڑا انعام ہے اور اس لئے اس کا بہت احترام اور اکرام لازم ہے۔یہ کھیل نہیں۔عبث فعل نہیں۔اس کا مقصد بہت بلند ہے اور اس مقصد کو پالینا دائمی خوشی اور 12