ایک عزیز کے نام خط — Page 114
سرعت سے ترقی کر سکتا ہے۔کھانا پینا ، لباس پہننا اور روزی کمانا، مکان بنانا، ورزش کرنا، مطالعہ کرنا، بیاہ شادی ، گھر کی معاشرت، اولاد حاصل کرنا، اولاد کی تربیت کرنا سب اس طریق سے اعلی اخلاقی اور روحانی افعال بن سکتے ہیں۔مثلاً ہر شخص بیوی بچوں کی ضرورت مہیا کرتا ہے۔محنت کرتا ہے، کما کر لاتا ہے اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا اور ان کی ضروریات کا انتظام کرتا ہے۔اب اگر تمام وقت اس کی نیت یہ ہو کہ میں ایسا اس لئے کرتا ہوں اور مجھے ایسا اسلئے کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ تم بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرو تو وہ تمام وقت گو یا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگا ہوا ہے اور اس کی یہ تمام محنت تقویٰ کی ذیل میں آجاتی ہے اور اس کے لئے ترقی اور ثواب کا موجب ہے۔اور اگر وہ ہر کام میں ایسی نیت رکھ لے گا تو اس کی زندگی کی خود بخود اصلاح ہوتی چلی جائے گی اور اس کا کوئی کام تقویٰ کے خلاف نہیں ہوگا۔اگر روزی کمانے میں ایک شخص کی نیت وہ ہوگی جو میں نے بیان کی ہے تو پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی روزی ناجائز وسائل سے حاصل کرے۔مثلاً کسی کا حق مارے یا کسی کو فریب دے یا رشوت لے۔کیونکہ جب اس کی نیت اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی ہے تو وہ روزی ان ذرائع سے ہی حاصل کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پسندیدہ ہیں۔اسی طرح اگر ایک شخص ملازم ہو تو اس کو اپنے فرائض کو کمال دیانتداری اور تندہی سے ادا کرنا چاہئے۔اس لئے نہیں کہ اس کا آقایا افسر خوش ہو کر اسے انعام دے گا ، اسے ترقی ملے گی بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا کیونکہ اس کی رضا یہ ہے کہ ہر ملازم اپنے فرائض تندہی اور دیانت سے بجا لائے اور ہر آقا اور افسر اپنے ملازموں اور ماتحتوں سے شفقت اور نرمی کا سلوک کرے۔اگر اس طور پر ہر شخص اپنی نیت کی اصلاح کرلے تو اعمال کا تمام معیار ہی بدل جاتا ہے اور انسانی زندگی بالکل امن اور دوستی کی زندگی بن جاتی ہے۔114