ایک عزیز کے نام خط — Page 113
گیا ہے اور اخلاقی افعال کی بناءنیت پر رکھی گئی ہے اور محض محل پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا۔اسی طرح نیت کے لحاظ سے بعض اعمال محض اعلی نیت پر مبنی ہونے کی وجہ سے زیادہ انعام کے مستحق بن جاتے ہیں۔اور عام نیت کے لحاظ سے وہ ویسے اعلی نہیں رہتے۔اور اسی لحاظ سے ان کا اثر انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی پر پڑتا ہے۔ایک صحابی نے اپنا مکان مسجد کے قریب بنایا اور رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی کہ حضور اس مکان میں برکت کے لئے تشریف لائیں۔چنانچہ حضور تشریف لے گئے۔ایک دریچہ کو دیکھ کر حضور نے دریافت فرمایا یہ کس غرض کے لئے رکھا ہے؟ صحابی نے عرض کیا کہ حضور ہوا اور روشنی کی خاطر۔آپ نے فرمایا اگر تم یہ نیت کر لیتے کہ اس کھڑکی سے اذان کی آواز زیادہ آسانی سے سنی جائے گی تو ہوا اور روشنی تو آتے ہی رہتے اور ساتھ ہی تمہیں تمہاری نیت کا ثواب بھی مل جاتا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر انسان چاہے تو محض نیت کے نیک کر لینے سے اپنے ہر فعل کو ثواب اور برکت کا موجب بنا سکتا ہے۔مثلاً ہر شخص کھاتا پیتا ہے اور کھانے اور پینے سے لذت حاصل کرتا ہے اور عام انسانوں کی غرض کھانے پینے سے اس سے زیادہ نہیں ہوتی کہ بھوک اور پیاس کے تقاضوں کو پورا کریں اور زبان کے ذائقہ سے لطف اٹھا ئیں اور بدن میں طاقت آئے۔لیکن اگر ایک مومن یہ نیت کر لے کہ میں اس لئے کھاتا پیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے یہ سب اشیاء تمہاری خدمت کے لئے پیدا کی ہیں تم حلال کی روزی کماؤ اور کھاؤ تا اپنی زندگی اور طاقتوں کو قائم رکھو اور انہیں میری رضا جوئی میں صرف کرو۔اور اگر اس کی نیت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی فرمانبرادری اور اس کی رضا جوئی ہے تو لطف تو وہ بھی ویسے ہی اٹھائے گا جیسے دوسرے لوگ بلکہ ان سے بڑھ کر کیونکہ وہ معرفت کے ساتھ کھائے گا لیکن ساتھ ہی وہ ثواب بھی حاصل کرے گا۔یعنی یہ کھانا اور پینا اس کی روحانی ترقی میں مرد اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا موجب ہوگا۔اسی طرح ایک مومن ہر قدرتی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اگر نیت اعلیٰ رکھے تو اپنی زندگی کے ہر فعل سے روحانی فوائد حاصل کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے میں 113