ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 112 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 112

دوسرے کا لباس ہیں یعنی وہ آپس کی محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو قائم رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے حسن معاشرت کے ساتھ پیش آتے ہیں اور ان کے باہمی تعلقات کی بناء تقویٰ پر ہے اور وہ نیک اولاد کی خواہش رکھتے ہیں۔اس نیت سے کہ ایسی اولاد اللہ تعالیٰ کی خادم ہوگی اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو قائم کرنے والی ہوگی تو ان کے تعلقات موجب ثواب اور برکت ہیں۔لیکن اگر ایک مرد و عورت کا باہمی تعلق محض نفسانیت کی بناء پر ہے تو اگر تو وہ میاں بیوی نہیں تو یہ تعلق بوجہ غیر محل پر ہونے کے ظلم ہے۔اور اگر وہ میاں بیوی بھی ہیں تو بھی گو ظاہری قانون اور فقہ کی زد سے تو بے شک وہ قابل گرفت نہیں لیکن حقیقی اخلاق کے لحاظ سے ان کا تعلق مستحسن نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ وہ نیک نیتی پر مبنی نہیں ہے اور ایسا تعلق بہر حال مخرب اخلاق ہوگا۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ فتویٰ اور شے ہے اور تقویٰ اور شے۔فتویٰ تو صرف ظاہر پر چلتا ہے جو فعل قانون کی حد کے اندر رہتا ہے وہ فتویٰ کی رو سے جائز ہے یعنی قابل گرفت نہیں۔اور جو فعل قانون کی حد سے باہر ہے وہ ناجائز ہے اور قابل گرفت ہے۔لیکن یہ ایک ادنیٰ درجہ اخلاق کا ہے اور تقویٰ کا مقام اس سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ وہ نیت اور دل سے تعلق رکھتا ہے اور دراصل اعلیٰ اخلاق تقویٰ کے مقام پر پہنچ کر ہی حاصل ہوتے ہیں۔جو فعل برمحل ہے وہ جائز ہے لیکن اگر حسن نیت بھی اس کے ساتھ شامل ہے تو وہ اعلیٰ اخلاقی فعل بن جائے گا اور تقومی کہلائے گا۔دین کی غرض محض جرم سے بچانا ہی نہیں بلکہ گناہ سے بچانا بھی ہے اور پھر اس سے بڑھ کر تقی اور اعلیٰ اخلاق کا انسان بنانا ہے۔قانون اور مذہب میں بڑا فرق یہ ہے کہ قانون صرف اعمال کی اصلاح کو مد نظر رکھتا ہے۔یعنی اس کا اطلاق محض ظاہری افعال پر ہوتا ہے اور اکثر اوقات فعل کے صادر ہو چکنے کے بعد بصورت سزا ہوتا ہے۔مگر دین یا مذہب اخلاق کی درستگی کو مقصد قرار دیتا ہے اور اس کی حکومت قلب اور نیت اور ارادہ پر ہوتی ہے تا کہ افعال کے منبع کو صاف کیا جائے اور وہاں سے جو فعل صادر ہونے کی حرکت ہو وہ نیک ہو اور اس کے نتیجہ میں اعمال میں خود بخو داصلاح ہو جائے۔اسی لئے مذہب کی اصطلاح میں خیال اور ارادہ کو بھی قابل گرفت یا قابل انعام فعل قرار دیا 112