ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 36 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 36

فرمایا: اور پھر فرمایا اے کہ کوئی گر دعا ہا را اثر بودے کجا است سوئے من بشتاب بنمائم تراچوں آفتاب مکن انکارزیں اسرار قدرت ہائے حق قصہ کوتہ کن ہیں از ما دعائے مستجاب ہاں کرامت گرچه بے نام و و نشان است بیا بنگر زغلمان اس میں بھی قبولیت دعا ہی کی طرف اشارہ ہے اور پھر ہم میں سے اکثر اپنی ذاتوں میں علی قدر مراتب دعاؤں کی قبولیت کے شاہد ہیں۔الہام الہی پھر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ کلام کرتا ہے۔اس صفت سے تو آج سوائے جماعت احمدیہ کے تمام دنیا منکر ہے۔یعنی اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بیشک گزرے ہوئے زمانوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ کلام کیا ہے لیکن اب وہ کسی کے ساتھ کلام نہیں کرتا اور نہ آئندہ کر دیگا۔گویا یہ لوگ خدا تعالیٰ کی اس صفت کو اب معطل سمجھتے ہیں۔اور ایک دوسرا گروہ ایسا ہے جو کبھی اس صفت کے قائل ہی نہیں تھے۔اور ان دونوں قسم کے لوگوں کے قیاس میں موجودہ زمانہ میں بہر صورت اللہ تعالیٰ کی یہ صفت جاری نہیں حالانکہ ایسا قیاس اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق سخت بد گمانی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ کلام نہیں کرتا وہ خواہ رسمی طور پر یہ مان بھی لیں کہ کبھی وہ کلام کیا کرتا تھا، ان کے دلوں کی گہرائیوں میں اس بات پر ایمان نہیں 36