ایک عزیز کے نام خط — Page 35
قبولیت دعا اس لئے یہ نکتہ اپنے دل میں نقش کر لو کہ ہمارا خدا زندہ اور قادر خدا ہے اور وہ یقیناً یقیناً دعاؤں کو سنتا ہے۔ہمارا وہ آتا ہے اور مالک ہے اور عالم الغیب ہے۔وہ پابند نہیں کہ ہماری ہر دعا کو اسی رنگ میں قبول فرمائے جس رنگ میں ہم دعا کرتے ہیں۔ہماری نظروں کی وسعت محدود ہے۔بسا اوقات ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لئے کونسی چیز بہتر ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم ایسے امر کے لئے دعا کر رہے ہوں جو حقیقتاً ہمارے لئے مضر ہو یا ہماری ترقی میں روک ڈالنے والا ہو۔ایسی دُعا کا قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت رحم کے بھی خلاف ہوگا۔کیونکہ گو ہم نہیں جانتے مگر وہ تو جانتا ہے کہ یہ بات ہمارے لئے مضر ہے۔بعض دفعہ انسان کو اپنی بہتری اور ترقی ہی کے لئے مشکلات اور تکلیفات میں سے گذرنا پڑتا ہے اور بہر صورت جب اللہ تعالیٰ بندے کی سنتا اور مانتا ہے تو بعض دفعہ بندے کو اپنی بھی منواتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اخلاص کے ساتھ دل سے نکلی ہوئی دُعا ضائع نہیں جاتی۔اگر اپنے اصل رنگ میں قبول نہ ہوگی تو کسی اور رنگ میں اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ عطا فر مائے گا۔تمہیں کسی وقت بھی اس احساس سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ خواہ تم کیسی ہی مشکلات میں گھر جاؤ یا کیسی ہی تکالیف کا تمہیں سامنا ہو اللہ تعالیٰ کا دربار ہر وقت کھلا ہے۔تم فوراً دوڑ کر اس کے حضور حاضر ہو جاؤ وہ ہر وقت تمہاری پناہ ہو گا اور تمہاری حفاظت کرے گا اور تم سے محبت سے پیش آئیگا اور تم اس کی رحمتوں اور فضلوں سے حصہ پاؤ گے۔افسوس که مسلمانوں نے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے منہ موڑ لیا۔اور عملاً اس کے منکر ہو گئے۔کس قدر بڑا انعام تھا جسے اُنہوں نے کھو دیا! بعض نے تو برملا کہہ دیا کہ دعا تو محض انسان کے اپنے دل کو تسلی دینے کا ایک ذریعہ ہے ورنہ اس کے نتیجے میں کوئی بیرونی اثر پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے اس کارڈ فرمایا۔اور بار بارلکھا ہے کہ اگر تم کو دعا کے اثر پر ایمان نہیں تو میرے پاس آؤ اور قبولیت دعا کے اثر کو دیکھو۔چنانچہ 35