ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 34 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 34

سلوک رحمت اور شفقت اور محبت کا ہوتا ہے۔جیسے ایک بزرگ نے فرمایا ہے اے ترا با ہر کسے رازے دگر ہر گدا را بر درت نازے دگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے چہرے غبار آلود اور بال پریشان ہوتے ہیں (یعنی بظاہر کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتے اور دیکھنے میں مفلوک الحال نظر آتے ہیں) لیکن جب وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں بات یوں ہوگی تو پھر خدا تعالیٰ کو ان کی اتنی قدر منظور ہوتی ہے کہ وہ ویسے ہی کر دیتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ دُعاؤں کو سنتا ہے۔یہ صفت انسان کے لئے کس قدر مژدہ جانفزا ہے اور کس قدر تستی اور اطمینان اور جرات اور حوصلہ انسان کے اندر پیدا کرنے والی ہے۔ایک مومن سخت سے سخت تکلیف کی حالت میں یا بڑے سے بڑے خوف یا خطرہ کے وقت اس یقین سے تسلی پاتا ہے کہ میرا رب ہر وقت میرے ساتھ ہے اور جب بھی میں اسکی طرف جھکوں وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے اور میری پکار اور گریہ وزاری کو سنتا ہے اور میری دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔پھر مجھے کس چیز کا خوف ہو سکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی جب میرے بندے میرے متعلق تجھ سے دریافت کرتے ہیں تو انہیں بتا دے کہ میں پاس ہی ہوں۔جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کوسنتا اور قبول کرتا ہوں۔اب اس سے بڑھ کر اطمینان اور تسلی اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ قادر ہستی جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اور کوئی چیز اسکے احاطہ قدرت سے باہر نہیں اور سب کچھ اس کے لئے ممکن ہے اور کوئی بات اس کے لئے انہونی نہیں۔وہ ہم سے کہتا ہے گھبراؤمت میں ہر وقت پاس ہوں، مجھ سے مانگو میں دونگا۔میں ہر دکھ کو سکھ سے اور ہر تکلیف کو راحت سے بدل سکتا ہوں اور میرے انعاموں اور فضلوں کی کوئی حد بندی نہیں کر سکتا۔سورة البقرة - آيت 187 34