قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 6 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 6

پیر صاحب قادیان سے قاعدہ بستر تا القرآن بذریعہ ڈاک منگواتے اور ایک ماہ میں قاعدہ پڑھا دیتے۔دوسرے ماہ میں قرآن شریف پڑھا دیتے۔اس زمانہ میں ہم لوگوں کو قادیان کا کچھ پتہ نہ تھا۔اس سے پہلے عام طور پر ر بغدادی قاعدہ ، یہاں مسجد میں پڑھایا جاتا تھا۔جس کا پڑھنا اور سمجھنا دیہاتیوں کے لئے بہت ہی مشکل تھا۔جب گاؤں میں پیر صاحب کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا۔اور اکثر لوگ قرآن شریف پڑھ گئے۔اور باہر علاقہ میں مشہور ہو گیا کہ فلاں پیر صاحب ایک دو ماہ میں قرآن شریف پڑھا دیتے ہیں۔تو آپ نے توحید وسنت کا پرچار شروع کر دیا۔چونکہ اس علاقہ میں قبر پرستی، پیر پرستی شرک و بدعت اور غیر اللہ کے لئے نذر و نیاز کا کافی رواج تھا۔لہذا پیر صاحب نے ان مسائل پر لیکچر دینے شروع گئے۔اور کافی لوگ شرک و بدعت سے تائب ہو گئے۔لیکن اب ان مسائل پر آپ کی مخالفت بھی سخت شروع ہوئی۔اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو وہابی وغیرہ کے القاب اور خطاب ملنے شروع ہوئے۔چونکہ یہ علاقہ زیادہ تر مشهور گدی سیال شریف کے پیروں کے ماتحت تھا۔اور اس علاقہ کے وہ بڑے پیر مانے جاتے تھے۔لہذا وہاں کے پیر صاحبان نے بھی محسوس کیا کہ اس علاقہ کے لوگ ہمیں چھوڑ کر پیر منور الدین کے مرید ہوتے جاتے ہیں۔گویا وہابی ہوتے جاتے ہیں۔انہوں نے بھی اس علاقہ میں اپنے دورے شروع کر دیئے۔لیکن خدا کے فضل سے چک منگلا کے گردو نواح میں اکثر دیبات میں