قبول احمدیت کی داستان — Page 12
۱۲ کو بہ توسط مولانا احمد علی صاحب لاہوری یہاں منگوایا گیا۔آپ اچھا مطالعہ کرنے والے تھے۔وہ چھ ماہ ہمارے پاس رہے۔ہم ان کو چالیس روپیہ شاہرہ اور دو وقت کا کھانا دیتے تھے۔میں نے اس عرصہ میں ملا جلال - زواہد ثلاثہ - میبد یا شمس بانه صدرا شرح عقائد۔خیالی - مطول وغیرہ بہت سی کتب سبقا پڑھیں اور پھر وہ واپس چلے گئے یہ اے کے حالات ہیں۔اس کے بعد تو میں نے خود ہی مطالعہ شروع کیا۔میں پیر صاحب کی نائبریری کا استخانہ سے ہوتا تھا۔ساری صحاح ستہ۔شروح فقہ کی کتابیں شامی تک شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتب۔امام ابن قیم - امام ابن تیمیہ کی کتابیں غرضیکہ جنتی کتابیں ہماری لائبریری میں تھیں۔میں نے کئی کئی بار ان سب کا مطالعہ کر لیا اور میں پیر صاحب کا ایک اچھا خاصہ مبلغ اور معاون اور خلیفہ بن گیا۔ہاں اسی زمانہ میں میں نے سواتین ماہ کے عرصہ میں قرآن مجید بھی حفظ کر لیا۔میرے ڈومناظر سے اس دوران پیر صاحب کے ساتھ بریلوی حضرات کے کئی مناظرے ہوئے جن میں میں پیر صاحب کا دست راست ہوتا۔بلکہ ایک مشہور مناظرہ محمدی شریف کے علاقہ میں ہوا۔وہاں مجھے بھجوایا گیا محمدی شریف کے چند علماء تھے علم غیب پر مناظرہ تھا ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے بمقام مناظرہ چک چچکانہ تھا۔جہاں ب ہماری نئی جماعت بھی قائم ہو چکی ہے۔پہلے دن تو مولوی ہار گئے اور انہوں نے خود محسوس کیا کہ ہم ہار گئے