قبول احمدیت کی داستان — Page 7
لوگ شرک و بدعت سے متنفر ہو گئے۔ہمارا تبلیغی نظام پیر صاحب نے چک منگلا کے لوگوں سے عہد لیا کہ ہم ہر ماہ کے ایام البیض قمری مہینے کی ۱۳ ۱۴ ۱۵ تاریخیں ، تین دن تبلیغ کے لئے وقف کیا کریں گے اور توحید و سنت کی تبلیغ کے لئے یہ تین دن باہر گزاریں گے۔چنانچہ پیر صاحب اور آپ کے خاص مریدین تاریخ معین پر ایک قافلہ کی صورت میں اونٹوں پر خور و نوش کا سامان باندھے اور ضرور ہی کتابوں کو ساتھ اٹھائے ہوئے دور دراز نکل جاتے اور تبلیغ کرتے۔یاد رہے کہ اس سارے پروگرام میں پیر صاحب کے وزیر اعظم الحاج صالح محمد مشکلا تھے جو ہماری قوم کے بزرگ ہیں اور اب ہماری منگلا کی جماعت کے عظیم رکن ہیں۔۔مناظرہ سلانوالی جب اس طرح پر جنگ اور سرگودھا کے ہر دو اضلاع میں جانی تبلیغ ہوگئی اور سیال شریف والوں نے سمجھا کہ اب تمام علاقہ ہمارے ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے۔تو موجودہ گدی نشین جناب صاحبزادہ قمر الدین صاحب علماء کی ایک جماعت نے کر چک منگل وارد ہوئے۔اور ہماری جماعت سے مناظرہ کا مطالبہ کیا۔چنانچہ شرائط مناظرہ کھے ہوئیں اور علم غیب کے موضوع پر مناظرہ کی تاریخ وغیرہ کا پروگرام لے کر لیا گیا۔یعنی صاحبزادہ صاحب کے نزدیک تمام انبیاء۔اولیاء ہر وقت ہر چیز کا علم رکھتے ہیں۔اور پیر صاحب کے نزدیک ہر وقت ہر چیز کا علم صرف