قبول احمدیت کی داستان — Page 3
کلمه اغاز آسمانی تحریکات پر لبیک کہنے کی سعادت پانے والے انسانوں کو مختلف مراحل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔صدہا روکیں پیدا ہوتی ہیں۔مگر ان کا عزم صمیم انہیں گو ہر مراد پانے میں کامیاب کر دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔والذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاء مجھے محترم الحاج مولومی عزیز الرحمن صاحب منگلا سے اس وقت سے تعارف حاصل ہے جب آپ ابھی تحقیق حق کی منازل طے کر رہے تھے۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے۔جب میں نے اور اخویم مولوی محمد یار صاحب عارف نے ان کی تحریک پر ان کے گاؤں کے پہلے جلسہ میں تقاریر کی تھیں۔اس وقت ابھی آپ کے اور آپ کے ایک دو ساتھیوں کے سوا گاؤں کے باشندے دائرہ احمدیت میں داخل نہ ہوئے تھے۔مولوی صاحب موصوف کے خلوص اور ان کی دردمندانہ دعاؤں اور چک منگل کے احباب کی نیکی کا نتیجہ ہے کہ آج ایک بڑی اکثریت احمدیت کو قبول کر چکی ہے۔مجھے مولوی عزیز الرحمن صاحب فاضل کی قبول احمدیت کی داستان بہت پسند ہے میری تحریک پر ہی انہوں نے اسے قلمبند فرمایا ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بہتوں کی ہدایت کا موجب بنا ئے آمین۔خاکسار ابو العطاء جالندھری راکتو بر ۱۹۶۲ء ربوه